تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
تحریر میں جن دو پولیس افسران کا ذکر ہے، ان کی شخصیت، طرزِ قیادت اور پیشہ ورانہ رویہ ایک اہم حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پولیس کا وقار صرف اختیارات سے نہیں بلکہ دیانت، انصاف اور عوامی خدمت سے قائم ہوتا ہے۔ پنجاب پولیس میں ایسے افسر بھی ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ ایمانداری محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل طرزِ زندگی ہے۔ انہی شخصیات میں ڈی آئی جی ہیڈکواٹر بلوچستان حسن اسد علوی اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نمایاں ہیں۔ دونوں کا انداز مختلف ضرور تھا، مگر مقصد ایک تھا قانون کی حکمرانی، ماتحت عملے کی اصلاح اور عوام کا اعتماد بحال کرنا۔ حسن اسد علوی جب ڈی پی او اٹک تعینات ہوئے تو انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ کے بجلی، گیس اور پانی کے بل حسب روایت اپنی جیب سے ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔ سرکاری ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد سرکاری گاڑی اور سکیورٹی واپس بھیج دینا ان کی اصول پسندی کا ثبوت تھا۔ حتیٰ کہ سرکاری گاڑی میں غلطی سے ڈلوائے گئے پٹرول کی قیمت بھی سرکاری خزانے میں جمع کروا دی۔ ایسے اقدامات نے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ مضبوط کی بلکہ ماتحت افسران کو بھی دیانت داری کا عملی سبق دیا۔ دوسری جانب علی ناصر رضوی اپنی دن رات فرائض منصبی، غیر معمولی یادداشت، نظم و ضبط اور عوام دوست پولیسنگ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ ماتحت افسران کو دیا گیا ہر ٹاسک یاد رکھتے اور اس کی باقاعدہ پیروی کرتے تھے۔ انہوں نے فرنٹ ڈیسک اور ماڈل پولیس اسٹیشن کے تصور کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ تھانے میں آنے والا ہر شہری عزت اور احترام کا مستحق ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ایک بزرگ شہری دوبارہ تھانے آئے تو اسے جھڑکنے کے بجائے احترام سے پوچھا جائے کہ اس کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہوا۔ یہی رویہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد بنتا ہے۔ان کا ایک جملہ آج بھی پولیس افسران کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر پولیس کی ایک غلطی پر پورا میڈیا شور مچا سکتا ہے تو پولیس کے اچھے کام کو بھی خود بھرپور انداز میں سامنے لانا چاہیے۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ ایک ایماندار اور باکردار افسر پورے ضلع کی پولیس کا مزاج بدل سکتا ہے۔ ماتحت ہمیشہ اپنے کمانڈر کے کردار سے سیکھتے ہیں، صرف احکامات سے نہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں سی سی ڈی سرگودھا کی کارروائی، جس میں کمسن بچی کے قتل کے مقدمے کے مبینہ ملزم کی اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کیے گئے، جن میں ڈی این اے رپورٹ سے متعلق بھی قیاس آرائیاں شامل تھیں۔ پولیس نے وضاحت کی کہ اس وقت تک ڈی این اے رپورٹ موصول نہیں ہوئی تھی لیکن سی سی ڈی سرگودھا نے اس کیس میں مکمل ایس او پیز کے مطابق عمل کیوں نہیں کیا جب کسی کارروائی میں معمولی سا ابہام بھی رہ جائے تو افواہوں کو جنم ملتا ہے، جس سے نہ صرف عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ پوری فورس کی ساکھ بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ پاکستان کو ایسے پولیس افسران کی ضرورت ہے جو حسن اسد علوی کی دیانت، علی ناصر رضوی کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قانون کی مکمل پاسداری کو اپنا شعار بنائیں۔عوام کا اعتماد صرف جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری سے نہیں بلکہ شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہر قدم اٹھانے سے حاصل ہوتا ہے۔ پولیس کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب عوام تھانے کو خوف کی علامت نہیں بلکہ انصاف کی امید سمجھیں، اور یہی ہر پولیس افسر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
دو اعلیٰ پولیس افسر،پولیسنگ کے دو روشن باب:’’جب کمانڈر خود مثال بن جائے تو ماتحت بھی بدل جاتے ہیں‘‘


