Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      میٹا کا ٹیکنالوجی اور فیشن کا حسین امتزاج: نئی ’میٹا گلاسز‘ 26 اسٹائلز کے ساتھ متعارف

      دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اے آئی وکیل نے مقدمہ جیت لیا

      بدل گیا انفوٹیمنٹ کا جہاں ، سام سنگ ٹی وی میں انسٹا گرام ٹی وی ویب متعارف، کون سے انوکھے فیچرز متعارف کرائے گئے جانئیے!

      پنجاب میں خفیہ فلم بندی، تصاویر بنانے پر سزائیں ہوں گی، سائبر جرائم ڈیجیٹل بلیک میلنگ کے خلاف قانون تیار!

      زیورخ میں خود کار ٹیکسیوں (Robotaxis) کا آغاز؛ سوئٹزر لینڈ بلا ڈرائیور ٹیکسی سروس والایورپ کا دوسرا ملک

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    انسان کو بیدار تو ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرڈاکٹرمحمددائود
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    یہ خوبصورت شعر ایک ایسی ابدی سچائی کی ترجمانی کرتا ہے جس نے صدیوں، ثقافتوں اور مذاہب کی سرحدوں کو عبور کر لیا ہے۔ واقعۂ کربلا کو گزرے تیرہ سو برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے، مگر حضرت محمد ﷺ کے نواسے، امام حسینؑ کا نام آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کو حق، انصاف اور آزادی کی جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کی قربانی کو محض ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ ظلم و جبر کے خلاف استقامت، حوصلے اور اخلاقی جرات کی لازوال علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔680ء میں اسلامی تاریخ ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچی۔ یزید بن معاویہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ممتاز مسلم شخصیات سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ امام حسینؑ کا مؤقف تھا کہ ایسے حکمران کی اطاعت، جس کا طرزِ عمل اسلام کے قائم کردہ انصاف، دیانت داری اور جوابدہی کے اصولوں سے متصادم ہو، دراصل باطل کی توثیق کے مترادف ہے۔ چنانچہ انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے وہ راستہ اختیار کیا جو انہیں اپنے اہلِ خانہ اور وفادار ساتھیوں کے ہمراہ عراق کے میدانِ کربلا تک لے گیا۔ وہاں وہ تعداد میں بہت کم ہونے اور شدید مصائب، حتیٰ کہ پانی کی محرومی کے باوجود حق اور انصاف کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہے۔ 10 محرم 61 ہجری کو امام حسینؑ اور ان کے رفقاء شہید ہو گئے، مگر ان کا پیغام اور قربانی آج بھی نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔

    کربلا کی اصل اہمیت کسی عسکری فتح میں نہیں بلکہ اس کی اخلاقی عظمت میں ہے۔ امام حسینؑ نے ثابت کیا کہ کچھ اقدار ایسی ہوتی ہیں جنہیں ذاتی مفاد، سیاسی مصلحت یا دنیاوی کامیابی کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دکھایا کہ انسان بظاہر سب کچھ کھو کر بھی تاریخ اور ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہو سکتا ہے۔ ان کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اکثر ظالم کو مزید طاقت دیتی ہے، جبکہ حق بات کہنا اکثر قربانی اور جرات کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا پیغام ہر دور میں زندہ اور متعلقہ رہتا ہے۔ جب بھی لوگ ظلم، بدعنوانی، طاقت کے ناجائز استعمال یا انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، انہیں امام حسینؑ کی جدوجہد میں رہنمائی ملتی ہے۔

    امام حسینؑ کی زندگی آج بھی بے شمار اسباق فراہم کرتی ہے۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ سچائی کو کبھی سہولت کی خاطر قربان نہیں کرنا چاہیے۔ ہر معاشرے میں ایسے مواقع آتے ہیں جب لوگ خاموش رہنے یا حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر امام حسینؑ نے دکھایا کہ اصولوں پر قائم رہنا ہی حقیقی عظمت ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ انسانی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ شدید مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ اخلاقی طاقت جسمانی طاقت سے کہیں زیادہ دیرپا اور مؤثر ہوتی ہے۔ تاریخ نے کربلا کے شہیدوں کو زندہ رکھا ہے، جبکہ طاقت کے نشے میں سرشار حکمرانوں کے نام محض تاریخ کے اوراق میں رہ گئے ہیں۔

    آج کی دنیا بھی ساتویں صدی کے بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ طاقت کا ناجائز استعمال، عدم مساوات، ناانصافی اور اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں اب بھی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں کربلا کا پیغام ایک اخلاقی رہنما کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ حکمرانوں کو یاد دلاتا ہے کہ اقتدار کا استعمال انصاف اور جوابدہی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ عوام کو یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور دوسروں کے حقوق کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کو یہ سبق دیتا ہے کہ دیانت، ہمت، قربانی اور ہمدردی جیسی اقدار ہر قیمت پر محفوظ رکھی جانی چاہئیں۔

    یہ شعر دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب انسانیت انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی حقیقی قدر کو پہچان لے گی تو امام حسینؑ کو صرف ایک تاریخی یا مذہبی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی ضمیر کے عالمی ترجمان کے طور پر تسلیم کرے گی۔ ان کا پیغام کسی ایک قوم، فرقے یا خطے تک محدود نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو حق، انصاف اور آزادی کو انسانی زندگی کی بنیادی اقدار سمجھتے ہیں۔

    تیرہ صدیاں گزر جانے کے باوجود امام حسینؑ کی یاد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔ ان کی زندگی آج بھی انسانیت کے ایک بنیادی سوال کا جواب دیتی ہے: جب انسان کو ناانصافی کا سامنا ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ امام حسینؑ نے اپنے عمل سے اس کا جواب دیا: سچائی کے لیے کھڑے ہو جاؤ، انسانی وقار کا دفاع کرو اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہو، خواہ اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انسانیت انصاف اور آزادی کی طرف بیدار ہوتی ہے، اسے کربلا کے میدان سے اٹھنے والی صدائے حق میں اپنی رہنمائی ملتی ہے، اور ہر قوم یہ محسوس کرتی ہے کہ حسینؑ صرف ایک قوم کے نہیں، پوری انسانیت کے ہیں۔

    Related Posts

    سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قتل کی اسرائیلی منصوبہ بندی کا انکشاف، برازیلی صحافی کا دعویٰ

    لیبیا کے لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی جی ایچ کیو آمد، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    آئی جی پنجاب کی زیر صدارت اہم اجلاس، عاشورہ پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کا حکم

    مقبول خبریں

    سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قتل کی اسرائیلی منصوبہ بندی کا انکشاف، برازیلی صحافی کا دعویٰ

    درآمدی گاڑیوں پر نئی ڈیوٹی اور ٹیکس شرحوں کا اعلان،کتنی سستی ہونگی؟

    اکشے کمار کا دلچسپ انکشاف، مداح کی گاڑی پر کیا ڈانس

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں رونالڈو کا تاریخی ریکارڈ، انگلینڈ کی فتوحات کا سلسلہ ٹوٹا، موڈرچ کا دو سو بین الاقوامی میچوں کا سنگ میل

    کولکاتا میں زیر تعمیر گودام کی چھت منہدم، 3 افراد ہلاک،21 کو بحفاظت نکالا گیا

    بلاگ

    انسان کو بیدار تو ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

    گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دیجئے!

    ’’سنہری موقع‘‘ میاں حبیب کا کالم

    نسخے کو متنازع بنا کر ڈاکٹر کے اختیار کو کمزور نہ کریں

    اور :-یہ ملک پاکستان۔۔۔میری امنگوں کا ترجمان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.