Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    انسان کو بیدار تو ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرڈاکٹرمحمددائود
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    یہ خوبصورت شعر ایک ایسی ابدی سچائی کی ترجمانی کرتا ہے جس نے صدیوں، ثقافتوں اور مذاہب کی سرحدوں کو عبور کر لیا ہے۔ واقعۂ کربلا کو گزرے تیرہ سو برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے، مگر حضرت محمد ﷺ کے نواسے، امام حسینؑ کا نام آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کو حق، انصاف اور آزادی کی جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کی قربانی کو محض ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ ظلم و جبر کے خلاف استقامت، حوصلے اور اخلاقی جرات کی لازوال علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔680ء میں اسلامی تاریخ ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچی۔ یزید بن معاویہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ممتاز مسلم شخصیات سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ امام حسینؑ کا مؤقف تھا کہ ایسے حکمران کی اطاعت، جس کا طرزِ عمل اسلام کے قائم کردہ انصاف، دیانت داری اور جوابدہی کے اصولوں سے متصادم ہو، دراصل باطل کی توثیق کے مترادف ہے۔ چنانچہ انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے وہ راستہ اختیار کیا جو انہیں اپنے اہلِ خانہ اور وفادار ساتھیوں کے ہمراہ عراق کے میدانِ کربلا تک لے گیا۔ وہاں وہ تعداد میں بہت کم ہونے اور شدید مصائب، حتیٰ کہ پانی کی محرومی کے باوجود حق اور انصاف کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہے۔ 10 محرم 61 ہجری کو امام حسینؑ اور ان کے رفقاء شہید ہو گئے، مگر ان کا پیغام اور قربانی آج بھی نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔

    کربلا کی اصل اہمیت کسی عسکری فتح میں نہیں بلکہ اس کی اخلاقی عظمت میں ہے۔ امام حسینؑ نے ثابت کیا کہ کچھ اقدار ایسی ہوتی ہیں جنہیں ذاتی مفاد، سیاسی مصلحت یا دنیاوی کامیابی کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دکھایا کہ انسان بظاہر سب کچھ کھو کر بھی تاریخ اور ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہو سکتا ہے۔ ان کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اکثر ظالم کو مزید طاقت دیتی ہے، جبکہ حق بات کہنا اکثر قربانی اور جرات کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا پیغام ہر دور میں زندہ اور متعلقہ رہتا ہے۔ جب بھی لوگ ظلم، بدعنوانی، طاقت کے ناجائز استعمال یا انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، انہیں امام حسینؑ کی جدوجہد میں رہنمائی ملتی ہے۔

    امام حسینؑ کی زندگی آج بھی بے شمار اسباق فراہم کرتی ہے۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ سچائی کو کبھی سہولت کی خاطر قربان نہیں کرنا چاہیے۔ ہر معاشرے میں ایسے مواقع آتے ہیں جب لوگ خاموش رہنے یا حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر امام حسینؑ نے دکھایا کہ اصولوں پر قائم رہنا ہی حقیقی عظمت ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ انسانی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ شدید مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ اخلاقی طاقت جسمانی طاقت سے کہیں زیادہ دیرپا اور مؤثر ہوتی ہے۔ تاریخ نے کربلا کے شہیدوں کو زندہ رکھا ہے، جبکہ طاقت کے نشے میں سرشار حکمرانوں کے نام محض تاریخ کے اوراق میں رہ گئے ہیں۔

    آج کی دنیا بھی ساتویں صدی کے بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ طاقت کا ناجائز استعمال، عدم مساوات، ناانصافی اور اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں اب بھی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں کربلا کا پیغام ایک اخلاقی رہنما کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ حکمرانوں کو یاد دلاتا ہے کہ اقتدار کا استعمال انصاف اور جوابدہی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ عوام کو یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور دوسروں کے حقوق کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کو یہ سبق دیتا ہے کہ دیانت، ہمت، قربانی اور ہمدردی جیسی اقدار ہر قیمت پر محفوظ رکھی جانی چاہئیں۔

    یہ شعر دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب انسانیت انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی حقیقی قدر کو پہچان لے گی تو امام حسینؑ کو صرف ایک تاریخی یا مذہبی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی ضمیر کے عالمی ترجمان کے طور پر تسلیم کرے گی۔ ان کا پیغام کسی ایک قوم، فرقے یا خطے تک محدود نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو حق، انصاف اور آزادی کو انسانی زندگی کی بنیادی اقدار سمجھتے ہیں۔

    تیرہ صدیاں گزر جانے کے باوجود امام حسینؑ کی یاد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔ ان کی زندگی آج بھی انسانیت کے ایک بنیادی سوال کا جواب دیتی ہے: جب انسان کو ناانصافی کا سامنا ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ امام حسینؑ نے اپنے عمل سے اس کا جواب دیا: سچائی کے لیے کھڑے ہو جاؤ، انسانی وقار کا دفاع کرو اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہو، خواہ اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انسانیت انصاف اور آزادی کی طرف بیدار ہوتی ہے، اسے کربلا کے میدان سے اٹھنے والی صدائے حق میں اپنی رہنمائی ملتی ہے، اور ہر قوم یہ محسوس کرتی ہے کہ حسینؑ صرف ایک قوم کے نہیں، پوری انسانیت کے ہیں۔

    Related Posts

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.