تحریر: زاہد انور لودھرا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہاں ہر چھوٹی بڑی ضرورت پر سیاست چمکائی جاتی ہے، وہاں انسانی جانوں کو بچانے جیسے حساس ترین معاملے پر ایک مجرمانہ خاموشی نظر آتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے بلڈ بینک اکثر خالی رہتے ہیں اور غریب عوام سفارش اور پیسوں کے باوجود خون کی ایک ایک بوند کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ایسے مایوس کن حالات میں، مایوسی کے اندھیروں کو چیرتی ہوئی ایک امید کی کرن نمودار ہوئی ہے، جس کا نام "ذوالفقار بلڈ فاؤنڈیشن” ہے۔
یہ فاؤنڈیشن صرف ایک تنظیم کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا وہ بے لوث سفر ہے جہاں بغیر کسی رنگ، نسل، ذات یا برادری کے فرق کے، صرف اور صرف انسانی جان کو بچانے کے لیے دن رات کام کیا جا رہا ہے۔ جب بھی کوئی پریشان حال شخص فاؤنڈیشن کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، تو رضاکار اپنی تمام تر مصروفیات کو پسِ پشت ڈال کر خون کا عطیہ دینے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو اس دورِ نفسا نفسی میں مٹ چکا ہے۔
لیکن یہاں ایک تلخ سوال اٹھانا بہت ضروری ہے: کیا انسانیت کو بچانے کا یہ ٹھیکہ صرف چند رضاکاروں نے ہی لے رکھا ہے؟
”خون کا عطیہ دینا صرف ایک سماجی کام نہیں، بلکہ یہ ایک شرعی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے کیونکہ قرآن پاک کا فرمان ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے گویا پوری انسانیت کو بچا لیا۔”
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ذوالفقار بلڈ فاؤنڈیشن کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، بلکہ ان کی طاقت ہمارے اور آپ کے دیے ہوئے خون کے عطیات ہیں۔ اگر ہم اپنی صحت مند زندگی کے چند منٹ نکال کر خون کا عطیہ نہیں دیں گے، تو کل کو اگر خدا نخواستہ ہمارے اپنے کسی پیارے کو ضرورت پڑی، تو ہم کس منہ سے دوسروں سے امید رکھیں گے؟ خون دینے سے صحت گرتی نہیں، بلکہ مزید بہتر ہوتی ہے، اور سب سے بڑھ کر روح کو وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کے کسی خزانے سے نہیں خریدا جا سکتا۔
میں اجتجاجاً اور مخلصانہ طور پر اپنے علاقے کے نوجوانوں، تاجروں اور معززین سے اپیل کرتا ہوں کہ آگے بڑھیں! ذوالفقار بلڈ فاؤنڈیشن کے دست و بازو بنیں۔ اپنے ناموں کو بطور ڈونر رجسٹر کروائیں اور سال میں کم از کم دو بار خون کا عطیہ دینے کا عزم کریں۔
آئیے، گرتی ہوئی سانسوں کو اپنی محبت کا سہارا دیں۔ آج کسی کے کام آئیں تاکہ کل جب ہم خدا کے حضور پیش ہوں، تو فخر سے کہہ سکیں کہ ہم نے اس کی مخلوق کے دکھ بانٹنے میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ قلم کا جہاد جاری رہے گا!

