بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز نیٹورک)
بی یو جے احتجاج وزیراعلی بلوچستان کا صحافیوں کے مطالبات کی بھرپور تائید
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کو ان کے وعدے یاد دلائے
میں بلوچستان کے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو سراہتا ہوں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی موجودہ دور میں بلوچستان میں صحافت کرنا آسان کام نہیں عام میڈیا ورکر کو ایک دن بتایا جاتا ہے کہ آپ کل سے دفتر نہ آئیں بلوچستان کی صحافت، خواہ مثبت ہو یا منفی، اپنی آواز اسلام آباد تک پہنچا رہی ہے وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کوئٹہ کے بیوروز بند نہیں ہوں گے آج اگر بلوچستان کے بیوروز بند کئے جاتے ہیں تو یہ صحافیوں کی آواز کو خاموش کرنے کے مترادف ہوگا عطاء اللہ تارڑ صاحب آپ نے مجھ سے چینلز بحالی کے حوالے سے وعدہ کیا تھا بلوچستان میں جن چینلز کے بیورو بند ہیں انہیں نیشنل میڈیا نہیں مانتے محسن نقوی صاحب آپ نے بھی 24 کا بیورو دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا بلوچستان کے ہر مسئلے پر آپ فوری پہنچتے ہیں۔ آپ کے مشکور ہیں میڈیا مالکان اربوں روپے کما رہے ہیں جبکہ یہاں ہمارے رپورٹرز کو 8 سے 10 ہزار روپے دیے جاتے ہیں جناب عطاء اللہ تارڑ میں آپ کی توجہ بلوچستان کی جانب دلانا چاہتا ہوں اگر بیوروز بحال نہیں ہوئے تو بلوچستان ہاؤس میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑا ہوگا میں ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ اپنی ذمہ داری نبھائیں عطاء اللہ تارڑ صاحب آپ ایک اچھے خاندان سے ہیں، آپ کی ملک۔کی۔قربانیاں ہیں بلوچستان کے بیوروز بند کرنے سے میڈیا ہاؤسز کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا تمام نیوز چینلز کے بیوروز کھلے رہنے چاہیں اگر بیوروز بند ہوں گے تو میڈیا ورکرز اپنے گھروں کا گزارہ کیسے کریں گے؟ اگر نیوز چینلز کے بیوروز بند ہوگئے تو میں وزیراعظم سے بات کروں گا اگر بلوچستان میں نیوز بیوروز بند ہوں گے تو پھر پورے ملک میں بند ہونے چاہیں جہاں کاروبار ہے وہاں بیوروز کھلے ہوئے ہیں، تو کیا صرف کاروبار کے لیے ہی نیوز چینلز ہیں؟ بیوروز کی بحالی کیلئے پورا ایوان صحافیوں کیساتھ ہے ڈپٹی اسپیکر کی بھی صحافیوں کی حق میں رولنگ، بیوروز بحال کرنے کا مطالبہ

