تحریرڈاکٹرمحمددائود
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
تاریخ عموماً اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو امن معاہدے کراتے ہیں یا جنگیں جیتتے ہیں، لیکن اکثر اُن ممالک کو نظر انداز کر دیتی ہے جو جنگ کے بعد ہونے والی تعمیرِ نو سے سب سے زیادہ معاشی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر مجوزہ U.S.-Iran معاہدہ بالآخر تقریباً 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو پیکیج پر منتج ہوتا ہے، تو ممکن ہے کہ اس کا سب سے بڑا معاشی فائدہ نہ امریکہ کو ہو اور نہ ہی ایران کو، بلکہ چین اس کا سب سے بڑا فاتح بن کر ابھرے۔ واشنگٹن سفارتی کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے، تہران سیاسی اور معاشی بحالی حاصل کر سکتا ہے، لیکن بیجنگ خاموشی سے اس پوری تعمیرِ نو کا سب سے بڑا اقتصادی حصہ سمیٹ سکتا ہے۔
پہلی نظر میں یہ تجزیہ حیران کن محسوس ہو سکتا ہے۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ چونکہ امریکہ اس معاہدے کا اہم کردار ہوگا، اس لیے سب سے زیادہ تجارتی فوائد بھی اسے ہی حاصل ہوں گے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ سفارتی کامیابیاں اور معاشی فوائد ہمیشہ ایک ہی ملک کے حصے میں نہیں آتے۔ تعمیرِ نو کے دوران وہی ممالک سب سے زیادہ کماتے ہیں جو سستا خام مال، بھاری مشینری، صنعتی آلات، ٹرانسپورٹ سسٹمز، ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر اور انجینئرنگ خدمات بڑی مقدار میں اور کم قیمت پر فراہم کر سکتے ہوں۔ آج کی عالمی معیشت میں یہ تمام صلاحیتیں سب سے زیادہ چین کے پاس موجود ہیں۔
تعمیرِ نو کے لیے مختص ہونے والی رقوم شاذ و نادر ہی مکمل طور پر اسی ملک میں خرچ ہوتی ہیں جسے امداد دی جاتی ہے۔ جنگ یا تنازع سے متاثرہ ممالک کو اسٹیل، سیمنٹ، برقی آلات، تعمیراتی مشینری، طبی سہولیات، رہائشی تعمیرات کا سامان، ریلوے نظام اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ چنانچہ اگرچہ امداد متاثرہ ملک کو دی جاتی ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ اُن غیر ملکی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں تک پہنچ جاتا ہے جو تعمیرِ نو کے لیے ضروری سامان اور خدمات فراہم کرتے ہیں۔ یوں تعمیرِ نو درحقیقت ایک عالمی خریداری پروگرام بن جاتی ہے۔
چین گزشتہ تین دہائیوں سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت کے طور پر منوا چکا ہے۔ وہ دنیا کا نصف سے زیادہ اسٹیل پیدا کرتا ہے، سیمنٹ کی پیداوار میں سرفہرست ہے، بھاری تعمیراتی مشینری، برقی آلات، شمسی توانائی کے نظام، ٹیلی کمیونی کیشن آلات اور ریلوے انفراسٹرکچر کی تیاری میں عالمی برتری رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چینی سرکاری اور نجی کمپنیاں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو کم لاگت اور کم وقت میں مکمل کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں ہر بڑے تعمیرِ نو منصوبے میں سب سے مضبوط امیدوار بنا دیتی ہیں۔
ایران بھی چین کی طویل المدتی اقتصادی حکمتِ عملی میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 25 سالہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے جس میں توانائی، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون شامل ہے۔ مزید برآں ایران، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا ایک اہم جغرافیائی مرکز ہے، جو مشرقی ایشیا کو وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سے ملاتا ہے۔ اس لیے ایران کی تعمیرِ نو چین کے لیے کوئی نیا کاروباری موقع نہیں بلکہ پہلے سے قائم اسٹریٹجک شراکت داری کی توسیع ہوگی۔
تاریخ بھی اس مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ عراق جنگ کے بعد امریکہ نے صدام حسین کی حکومت گرانے کے لیے بے پناہ فوجی اور مالی وسائل خرچ کیے، لیکن چند ہی برسوں میں چین عراق کا ایک بڑا اقتصادی شراکت دار بن گیا۔ اس نے عراقی تیل کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی اور عراق کے خام تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہو گیا۔ اس مثال نے ثابت کیا کہ جو ملک جنگ جیتتا ہے، ضروری نہیں کہ وہی معاشی میدان بھی جیتے۔
افغانستان بھی ایک اہم مثال ہے۔ بیس سالہ مغربی فوجی موجودگی کے بعد، چینی کمپنیوں نے افغانستان کے تانبے، لیتھیم، نایاب معدنیات اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں فوری دلچسپی ظاہر کی۔ اگرچہ سکیورٹی مسائل کی وجہ سے ان منصوبوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا، لیکن چین کی حکمتِ عملی واضح تھی: جنگ کے اخراجات سے دور رہنا اور استحکام آنے پر معاشی فوائد حاصل کرنا۔
افریقہ میں بھی چین نے یہی ماڈل کامیابی سے اپنایا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس نے کینیا اور ایتھوپیا میں ریلوے، تنزانیہ اور جبوتی میں بندرگاہیں، شاہراہیں، صنعتی پارکس، اسپتال، پن بجلی کے منصوبے اور سرکاری عمارتیں تعمیر کیں۔ ان منصوبوں میں چینی سرمایہ، چینی انجینئرنگ، چینی مشینری اور چینی تعمیراتی سامان استعمال ہوا۔ یہی جامع ماڈل چین کو عالمی انفراسٹرکچر منصوبوں میں مغربی ممالک پر نمایاں برتری دیتا ہے۔
اگر مستقبل میں ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی بھی آ جاتی ہے، تب بھی امریکی کمپنیاں کئی حوالوں سے پیچھے رہیں گی۔ امریکہ میں پیداواری لاگت اور مزدوری کی قیمت چین سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ کئی دہائیوں کی پابندیوں کی وجہ سے امریکی کمپنیوں کے ایران کے ساتھ کاروباری روابط نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے برعکس، چینی کمپنیاں ایران میں پہلے سے موجود ہیں اور مشکل معاشی ماحول میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ مزید یہ کہ وہ فنانسنگ، انجینئرنگ، خریداری اور تعمیرات پر مشتمل مکمل پیکیج فراہم کرتی ہیں، جو کسی بھی تعمیرِ نو کرنے والے ملک کے لیے انتہائی پرکشش ہوتا ہے۔
توانائی کا پہلو بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چین پہلے ہی ایرانی خام تیل کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے۔ اگر ایران سیاسی اور معاشی استحکام حاصل کر لیتا ہے تو اس کی تیل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ متوقع ہے، جس سے چین کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد توانائی کے ذرائع میسر آئیں گے۔ اس طرح چین کے ممکنہ فوائد صرف تعمیراتی منصوبوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کے تحفظ اور علاقائی اقتصادی انضمام تک پھیل جائیں گے۔
پاکستان بھی اس عمل سے بالواسطہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر ایران میں استحکام آتا ہے تو علاقائی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور سرحد پار روابط میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور خدمات کے شعبوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم پاکستان کی صنعتی بنیاد ابھی چین کے مقابلے میں بہت محدود ہے، اس لیے جب تک ملکی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ نہیں ہوتا، بڑے تعمیراتی معاہدوں میں پاکستان کا کردار محدود ہی رہے گا۔
اصل سبق یہ ہے کہ جنگوں اور امن معاہدوں کو صرف عسکری یا سفارتی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ حقیقی معاشی کہانی جنگ بندی کے بعد شروع ہوتی ہے۔ تعمیرِ نو کے دوران سینکڑوں ارب ڈالر اُن ممالک کی طرف جاتے ہیں جو سب سے زیادہ صنعتی پیداوار رکھتے ہیں۔ اسٹیل، سیمنٹ، برقی آلات، بھاری مشینری، ٹیلی کمیونی کیشن نظام اور ریلوے انفراسٹرکچر تیار کرنے والی فیکٹریاں اکثر اُن حکومتوں سے زیادہ منافع کماتی ہیں جو امن معاہدوں پر دستخط کرتی ہیں۔
اگر ایران تقریباً 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو پروگرام کا آغاز کرتا ہے تو خام مال، صنعتی مشینری، انجینئرنگ خدمات اور بنیادی ڈھانچے کے آلات کی سب سے زیادہ طلب دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت، یعنی چین، کے حق میں جائے گی۔ اس کے حقیقی فائدہ اٹھانے والے واشنگٹن یا تہران میں نہیں بلکہ شنگھائی، شین ژین، تیانجن، ووہان اور چین کے دیگر صنعتی مراکز میں موجود کارخانے ہوں گے۔
تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ اینٹ، اسٹیل، مشینری اور انفراسٹرکچر بنانے والے اکثر اُن لوگوں سے زیادہ کماتے ہیں جو امن معاہدے کراتے ہیں۔ جغرافیائی سیاست میں جنگیں سرحدوں کا تعین کرتی ہیں، لیکن معاشیات میں تعمیرِ نو ہی اصل فاتح کا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر U.S.-Iran معاہدہ واقعی ایک بڑے تعمیرِ نو پروگرام میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کا خاموش مگر سب سے بڑا معاشی فاتح چین ہو سکتا ہے۔


