ٹورنٹو:کینیڈا ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ نے ٹائیٹن آبدوز کو پیش آنے والے حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی۔ یہ رپورٹ اس المناک واقعے کے تین سال بعد سامنے آ رہی ہے جس میں پانچوں مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔
بورڈ کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے کہ رپورٹ انٹرنیٹ پر شائع کی جائے گی اور اس میں چھ سفارشات شامل ہوں گی۔
یاد رہے کہ ٹائیٹن آبدوز سنہ 2023ء میں ٹائٹینک کے ملبے کو دیکھنے کے لیے جانے والی مہم کے دوران لاپتہ ہو گئی تھی۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے کینیڈا کی افواج کی بنیادی مدد سے نیوفاؤنڈ لینڈ کے جنوب میں تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر بڑے پیمانے پر تلاش کا آپریشن شروع کیا تھا جس نے دنیا بھر میں بہت توجہ حاصل کی تھی۔
آبدوز کے لاپتہ ہونے کے چند دن بعد ایک ریموٹ کنٹرولڈ غوطہ خور گاڑی نے تباہ شدہ آبدوز کا ملبہ ٹائٹینک کے مقام سے 500 میٹر سے کم فاصلے پر دریافت کیا تھا۔
اس حادثے کی کئی دیگر اداروں نے بھی تحقیقات کی ہیں اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آبدوز چلانے والی کمپنی اوشن گیٹ کے انتظامی امور میں سنگین کوتاہیاں تھیں۔ اس کمپنی کا ہیڈکوارٹر واشنگٹن میں واقع ہے۔
کمپنی کے سربراہ سٹوکٹن رش بھی ان پانچ افراد میں شامل تھے جو حادثے کا شکار ہونے والی آبدوز میں سوار تھے۔
اپنی روانگی کے ایک گھنٹہ اور 45 سکینڈ کے بعد 12 ہزار فٹ کی گہرائی میں آبدوز حادثے کا شکار ہو گئی تھی اور اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے ارب پتی داؤد شہزادہ اور ان کے بیٹے سلیمان بھی اس المناک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

