اسلام آباد: پاکستان کی معیشت میں بحالی اور نمو کے آثار نمایاں ہونے کے باوجود، ملک میں بیروزگاری کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ’پاکستان اکنامک سروے 2025-26‘ میں شامل لیبر فورس سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بیروزگاری کی شرح گزشتہ مالی سال کے 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
لیبر مارکیٹ میں تیزی، ملازمتوں کے مواقع کم رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں کام کرنے کی اہل آبادی (ورکنگ ایج پاپولیشن) میں زبردست اضافہ ہوا ہے جو اب 159.8 ملین سے بڑھ کر 179.6 ملین ہو گئی ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی لیبر مارکیٹ میں شمولیت کی شرح (Labor Force Participation Rate) 44.9 فیصد سے بڑھ کر 46.3 فیصد ہو گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ نوجوانوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد ملازمتوں کی تلاش میں مارکیٹ کا رخ کر رہی ہے۔ اگرچہ برسرِروزگار افراد کی تعداد 67.25 ملین سے بڑھ کر 77.2 ملین ہوئی ہے، تاہم بیروزگار افراد کی تعداد 4.51 ملین سے بڑھ کر 5.9 ملین تک پہنچ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار ملازمتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
کون سا شعبہ کتنے لوگوں کو روزگار دے رہا ہے؟
زراعت: اب بھی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، لیکن اس کا حصہ 37.4 فیصد سے کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا ہے۔
تجارت (ہول سیل و ریٹیل): اس شعبے میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی، جہاں روزگار کا حصہ 14.5 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
تعمیرات (کنسٹرکشن): انفرااسٹرکچر اور ہاؤسنگ منصوبوں کی بدولت روزگار کی شرح 9.5 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد ہو گئی۔
ٹرانسپورٹ و مواصلات: 6.2 فیصد سے بڑھ کر 6.6 فیصد تک پہنچ گئی۔
مینوفیکچرنگ: یہ شعبہ 14.9 فیصد سے 14.8 فیصد پر جمود کا شکار رہا، جو صنعتی ترقی کی سست رفتاری کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کی رائے معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زراعت سے غیر زرعی شعبوں کی طرف منتقلی ایک ترقی پذیر معیشت کی علامت تو ہے، لیکن صنعتی شعبے (مینوفیکچرنگ) میں روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر افرادی قوت میں اضافے کے تناسب سے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے عمل کو تیز نہ کیا گیا، تو سماجی اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومت کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں وضع کرے جو نہ صرف نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کریں، بلکہ مینوفیکچرنگ اور صنعتی ترقی کو تیز کر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو باوقار روزگار فراہم کر سکیں۔

