اسلام آباد: پاکستان اکنامک سروے (مارچ 2026) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران ملکی بیرونی قرضوں میں اضافے کی رفتار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی حکومتی بیرونی قرضہ 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
قرضوں کی تفصیلات اور تجزیہ
رپورٹ کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں بیرونی قرضوں میں 364 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں ہونے والے 883 ملین ڈالر کے اضافے کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ملک قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور ری فنانسنگ کے خطرات کو ٹالنے کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔
قرضوں کی تقسیم:
کل بیرونی قرضہ: 92.2 ارب ڈالر۔
حکومتی ذمہ داری: 82.26 ارب ڈالر۔
آئی ایم ایف (IMF): 9.89 ارب ڈالر (کل قرضوں کا 11 فیصد)۔
کثیر الجہتی قرضے (ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک): 42.48 ارب ڈالر (46 فیصد، جو کہ کم شرح سود کے حامل ہیں)۔
دوطرفہ قرضے (غیر پیرس کلب ممالک): 19.025 ارب ڈالر (21 فیصد)۔
یورو اور سکوک بانڈز: 6.3 ارب ڈالر (7 فیصد)۔
کمرشل بینکوں کے قرضے: 6.32 ارب ڈالر (7 فیصد)۔
حکومتی حکمتِ عملی اور مستقبل کا لائحہ عمل
وفاقی حکومت نے اپنی بیرونی قرضوں کی پالیسی کو طویل مدتی فنانسنگ کی جانب منتقل کیا ہے تاکہ قلیل مدتی قرضوں کے ادائیگی کے دباؤ سے بچا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، وفاقی حکومت پر واجب الادا کل بیرونی قرضوں میں 68.41 ارب ڈالر طویل مدتی جبکہ 13.853 ارب ڈالر قلیل مدتی نوعیت کے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب حکومت مالی سال 2027 کے بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق، آمدنی میں اضافے، اخراجات میں کمی اور ساختی اصلاحات کے نتیجے میں درمیانی اور طویل مدت میں قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی متوقع ہے، جس سے ملکی معیشت کو استحکام اور مالیاتی لچک حاصل ہوگی۔

