ہندوستان کی آبی دہشت گردی جاری ، متنازع لاک گیٹ منصوبے کے تحت تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ پر کام شروع، بھارتی پانی کے وزیر نے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے پر کام ہو رہا ہے کہ ’ایک قطرہ پانی بھی‘ پڑوسی ملک پاکستان میں نہ جائے۔پاکستان نے پہلے کہا تھا کہ سرحد پار دریاؤں کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ’جنگی اقدام‘ سمجھا جائے گا، اور اس کا کہنا ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ اب بھی نافذ ہے کیونکہ اس سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔
NDTV interview with Union Minister CR Patil on Indus diversion plan in Pakistan
NDTV’s @deepduttajourno joins @ParmeshwarBawa with more details pic.twitter.com/21HDNivCDF
— NDTV (@ndtv) June 12, 2026
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیرِ پانی سی آر پٹیل نے منگل کی رات انڈیا کی اے این آئی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’یہ یقینی ہے، آنے والے برسوں میں ایک قطرہ پانی بھی (پاکستان کو) نہیں جائے گا۔یاد رہے سندھ طاس معاہدہ جو عالمی ضمانتوں اور ورلڈ بنک کے تحت ہوا تھا چھ دریاؤں کے پانی کے استعمال کو منظم کرتا ہے جو انڈیا سے نکلتے ہیں لیکن وہ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور سندھ طاس کا حصہ ہیں اور اس پر کروڑوں لوگ انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ کو روکنے سے پاکستان کی زراعت اور مجموعی معیشت پر سنگین اثرات ہوں گے، لیکن کسی بھی منصوبے کو اثر انداز ہونے میں کئی سال لگیں گے۔ تاہم پاکستان کو اپنے حق کے لئے ابھی اور آج سے قدم اٹھانا ہوگا،
بھارت نے کشمیر میں دریائے جہلم سے وابستہ تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً چار دہائیوں سے تعطل کا شکار لاک گیٹ منصوبے پر دوبارہ توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جس پر پاکستان نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔
ایشیا کی سب سے بڑی صاف پانی کی جھیل وُلر لیک(Wular Lake)میں واقع تلبل یا ولر بیراج پر کام 1987 میں اُو وقت روک دیا گیا تھا، جب پاکستان نے اس کی تعمیر پر اعتراض کیا تھا۔ تاہم 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی (Indus Water Treaty) سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا، جس کے بعد NHPC کو اس منصوبے کی تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (DPR) تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی ادارے این ایچ پی سی نے 2025 میں تلبل منصوبے کے لیے تحقیقی ڈرلنگ اور باتھی میٹرک سروے (پانی کی گہرائی کی پیمائش) کے دو ٹینڈر جاری کیے تھے۔ پانی کی تہہ اور گہرائی کا نقشہ تیار کرنے والا سروے مکمل ہو چکا ہے، تاہم ڈرلنگ کا ٹینڈر "انتظامی وجوہات” کی بنا پر منسوخ کر دیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اب این ایچ پی سی خود ہی منصوبے کی ڈی پی آر تیار کر رہی ہے، جس کے بعد تعمیراتی کام دوبارہ شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ این ایچ پی سی کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم، جس کی قیادت ڈائریکٹر پروجیکٹس سنجے کمار سنگھ کر رہے تھے، نے 7 جون کو شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے ننگلی علاقے میں واقع تلبل منصوبہ سائٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انجینئروں اور حکام نے ٹیم کو منصوبے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
تلبل نیوی گیشن منصوبہ کیا ہے؟
اصل منصوبے کے تحت 430 فٹ لمبا اور 40 فٹ چوڑا لاک گیٹ یا بیراج تعمیر کیا جانا تھا، جس کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 0.30 ملین ایکڑ فٹ (0.369 ارب مکعب میٹر) رکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد ولر جھیل سے دریائے جہلم میں پانی کے بہاؤ کو منظم کرنا اور آبی نقل و حمل کو آسان بنانا تھا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ معاہدے کے تحت دریائے جہلم، چناب اور سندھ (مغربی دریاؤں) پر پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت بھارت کو نہیں ہے۔ اسی اعتراض کے باعث 1987 میں تعمیر شروع ہونے کے دو سال بعد منصوبے پر کام روک دیا گیا تھا۔

