سکھر ( رپورٹ / عبد الرحمان راجپوت )
سکھر رینج پولیس کیجانب سے سکھر رینج میں (545) امام بارگاہوں، (4415) مجالس، (837) ماتمی جلوسوں اور (31) تعزیہ جلوسوں کے لیے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے، محرم سیکیورٹی کے حوالے سے تمام اضلاع اور سب ڈویژنز میں علماء کرام،انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اجلاسوں کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ہر سال کی طرح اس سال بھی علماء کرام، منتظمین اور عوام کے تعاون سے محرم الحرام کو پرامن اور محفوظ بنایا جائے گا۔ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں شرپسند عناصر کے ممکنہ عزائم پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ دشمن عناصر کی ہر سازش کو مکمل یکجہتی، باہمی تعاون اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ سکھر رینج ناصر آفتاب کی زیر صدارت محرم الحرام کے سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اہلِ سنت/تشیع علماء، مشائخ، ذاکرین اور ذمےدار عہدیداران کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں ایس ایس پی خیرپور میرس کیپٹن (ر) امیر سعود مگسی، ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل، ایس ایس پی اسپیشل برانچ منصورمُغل، ایس پی ریلوے سکھر شاہد نواز، اے ڈی ائی جی رینج آفس اسرار بروھی، ایس پی ہیڈ کوارٹر گھوٹکی عبدالقادر چاچڑ، ڈی ایس پی ایڈمن سجاد عباسی، پی ایس اشفاق لغاری، رینج آر ائی بی اور ضلعی ڈی ائی بی انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء اہلِ تشیع و سنت کے سید نصرت حسین شاہ، سید رکھیل شاہ، مولوی ریاض حسین، باقر شاہ، بابر علی ابڑو، مولانا محمد صالح انڈھڑ، مولانا محبوب علی سھتو، علامہ اسد اقبال زیدی، سید ناصر علی شاہ، سید صغیر حسین زیدی، سید سرکار حسین شاہ، اِمتیاز حسین شاہ، مطاہر حسین زیدی، مولانا میر محمد میرک، مولانا زبیر احمد پھلپوٹو، مولانا محمد رمضان پھلپوٹو، سید عبدالقادر شاہ جیلانی، مولانا گل حسن اجن، مولوی اختر علی لنڈ، یعقوب چنا، عبدالجبار حسینی، ظفر علی لاشاری، مولوی سراج احمد چنا، مولوی عبدالغفار چاچڑ، علامہ محمد توہا سعیدی، نوید بھائی اور مولوی معشوق علی وفد میں شامل تھے۔ اہلِ تشیع مکاتبِ فکر کے علماء اور عہدیداران نے محرم الحرام کے لیے سکھر رینج پولیس کے سیکیورٹی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہیں سراہا۔سکھر رینج محرم الحرام کے سیکیورٹی انتظامات سے متعلق ضلعی سطح پر اہلِ تشیع عہدیداران کو سیکیورٹی انتظامات سے آگاہ کیا جاچکا ہے اور پولیس افسران مسلسل رابطے میں ہیں۔ محرم الحرام سے قبل کومبنگ آپریشنز، سرچ آپریشنز اور دیگر حفاظتی اقدامات تیزی سے جاری ہیں

