واشنگٹن: امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس (DNI) تلسی گبارڈ کے عہدے سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس اور صدر ٹرمپ نے اسے ان کے شوہر کی علالت کے باعث لیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے، تاہم باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کے پیچھے تلسی گبارڈ اور صدر ٹرمپ کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کارفرما ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ پلیٹ فارم پر اعلان کیا ہے کہ آرون لوکاس (Aaron Lukas)، جو اس وقت پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں، قائم مقام ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ آرون لوکاس سی آئی اے کے ایک تجربہ کار انٹیلی جنس افسر ہیں اور ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں نیشنل سکیورٹی کونسل کا حصہ رہ چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تو شوہر کی بیماری کو بنیادی وجہ قرار دیا ہے، لیکن معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ تلسی گبارڈ کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس گزشتہ کئی ماہ سے ان کی کارکردگی اور پالیسیوں سے ناخوش تھا۔
ایران پالیسی پر اختلاف: صدر ٹرمپ نے مارچ میں عوامی سطح پر کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے تلسی گبارڈ کا رویہ "نرم” ہے۔ جون میں بھی ایران کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ان کے اندازوں پر صدر نے اختلاف کیا تھا۔
متنازعہ ٹاسک فورس: تلسی گبارڈ نے ‘ڈائریکٹرز انیشی ایٹوز گروپ’ کے ذریعے کئی حساس معاملات پر تحقیقات شروع کی تھیں، جن میں جے ایف کے (JFK) قتل کی فائلیں، انتخابی مشینوں کی سکیورٹی، اور کووڈ-19 کی ابتدا شامل تھی، جس پر وائٹ ہاؤس کو تحفظات تھے۔
سکیورٹی کلیئرنس کا تنازعہ: گزشتہ اگست میں 37 موجودہ اور سابقہ امریکی حکام کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے اور ایک انڈر کور انٹیلی جنس افسر کا نام لیک ہونے کے معاملے نے بھی صورتحال کو کشیدہ بنا دیا تھا۔
سیاسی الزامات: ڈیموکریٹس نے مسلسل الزام لگایا کہ گبارڈ اپنے عہدے کو صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور 2020 کے انتخابات میں دھاندلی کے بے بنیاد دعووں کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔
اپوزیشن کا ردعمل
سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اعلیٰ رکن سینیٹر مارک وارنر نے گبارڈ کی رخصتی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدت کے دوران یہ عہدہ حد سے زیادہ سیاسی ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کا کام غیر ملکی انٹیلی جنس پر توجہ دینا ہے، نہ کہ ملکی انتخابی معاملات میں مداخلت کرنا۔
تلسی گبارڈ، جو ماضی میں ڈیموکریٹک رکن کانگریس تھیں، نے 2024 میں ریپبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔ ان کا کیریئر متنازعہ بیانات، بشمول یوکرین جنگ پر روس کے مؤقف کی حمایت اور بشار الاسد سے ملاقات کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہا ہے۔ اب جبکہ 30 جون ان کا آخری دن ہوگا، واشنگٹن کے حلقے اسے ایک اہم سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

