جیکب آباد رپورٹ مجیب کھوسو
جیکب آباد کے بچل شاہ محلہ کی خواتین نے مبینہ طور پر جیکب آباد پولیس کی زیادتیوں کے خلاف ایس ایس پی ہاؤس کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر شدید نعرے بازی کی اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین خواتین کا کہنا تھا کہ نادر ولد غلام رسول ہانبھی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اسے بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سول لائن پولیس کی جانب سے زیادتی کی جا رہی ہے اور بے گناہ افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔احتجاج کرنے والی خواتین نے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا کر انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو احتجاج کا سلسلہ وسیع کریں گے۔مظاہرین نے سندھ پولیس کے سربراہ آئی جی سندھ، ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی جیکب آباد سے اپیل کی کہ معاملے کا نوٹس لے کر حقائق سامنے لائے جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔دوسری جانب اس حوالے سے پولیس کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ تاہم شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات سے حقائق سامنے لائے جانے چاہئیں۔

