کوئٹہ +گوادر: (بیورو چیف رحمت اللہ بلوچ )
ضلع گوادر میں ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معطل ہونے کے باعث ایندھن کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق سپلائی لائن متاثر ہونے سے ایرانی پٹرول کی قیمت جو کچھ دن پہلے تک 180 روپے فی لیٹر تھی، اب بڑھ کر 250 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح ایرانی تیل کے ایک ڈرم کی قیمت 38 ہزار سے بڑھ کر 55 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جس نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
تیل کی اس مصنوعی قلت اور مہنگائی نے سمندری معیشت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے:
سمندر میں شکار کرنے والے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ایندھن اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ اب شکار کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ماہی گیروں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اگر یہی حالات رہے تو وہ سمندر میں کشتیاں لے جانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
ٹرانسپورٹرز نے بھی ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گاڑی چلانا مشکل ہو رہا ہے، جس کا اثر براہِ راست کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔
گوادر کے شہریوں نے حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کا متبادل انتظام نہ ہونے کے باعث پورا ضلع شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو گوادر کا ٹرانسپورٹ، ماہی گیری اور روزمرہ زندگی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو جائے گا، جس سے معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس بحران کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔


