بلوچستان( رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب سے)نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ میں 46 ویں مڈکیر منیجمنٹ کورس کے شرکا کو لیکچر دیتے ہوئے جیلی بیکما نے کہا کہ بلوچستان اس وقت پانی کی شدید قلت، موسمیاتی تبدیلیوں اور زیرِ زمین پانی کی تیزی سے کم ہوتی سطح جیسے سنگین چیلنجز کا ئسامنا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور موثر حکومتی اقدامات کی فوری ضرورت ہے بلوچستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، تاہم روایتی طریقہ کاشت کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں جدید زرعی تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ڈرِپ اریگیشن، واٹر مینجمنٹ سسٹمز اور جدید زرعی مشینری کے استعمال سے نہ صرف پانی کی بچت ممکن ہے بلکہ زرعی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔۔جیلی بیکما نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو جدید زراعت کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہمات چلائے اور انہیں تکنیکی سہولیات اور تربیت فراہم کرے تاکہ وہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق اپنی زرعی سرگرمیوں کو بہتر بنا سکیں انہوں نے کہاکہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیمز اور واٹر اسٹوریج سسٹمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور زیرِ زمین پانی کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔بریفنگ کے اختتام پر جیلی بیکما نے کورس کے شرکا کے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیے۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل نیپا ڈاکٹر سید علی رضا شاہ نے جیلی بیکما کو ادارے کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔
