امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے چین سے فراہم کردہ پرزوں اور مشینری کی مدد سے جدید اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد تیار ہونے والے میزائل کی ممکنہ رینج تقریباً 1200 میل (لگ بھگ 1900 کلومیٹر) تک ہو سکتی ہے، جس کے دائرے میں مبینہ طور پر سعودی عرب اور اسرائیل جیسے ممالک کے اہداف بھی آ سکتے ہیں۔ یمنی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ (CAR) کی رپورٹ کے مطابق، ماضی میں ایسی کھیپیں ضبط کی گئی ہیں جن میں میزائل سازی سے متعلق آلات، خام مال، اور حرارتی موصل (تھرمل انسولینٹ) مواد شامل تھا جو بیلسٹک پرواز کے دوران شدید گرمی سے میزائل کے حصوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ میزائل ایران کے ‘خیبر شکن’ میزائل کے طرز پر تیار کیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ میں کسی چینی سرکاری سطح پر براہِ راست یا پالیسی سطح کی سرپرستی کی تصدیق نہیں کی گئی، بلکہ اس میں ایک یا چند چینی سپلائرز کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ نے خطے میں سکیورٹی خدشات اور حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
یمنی حوثی کی چینی پرزوں کی مدد سے جدید بیلسٹک میزائل کی تیار ی: امریکی اخبار کا انکشاف

