راولپنڈی:چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتوار کے روز کہا کہ پاکستان، اس کے عوام اور مسلح افواج نے معرکۂ حق، جسے آپریشن بنیان مرصوص بھی کہا جاتا ہے، میں ایک بے مثال فتح حاصل کی۔
راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں آپریشن کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے معرکۂ حق کو دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ قرار دیا، جس میں حق غالب آیا جبکہ باطل کو شکست ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے فوجی جارحیت اور سفارتی تنہائی کے ذریعے پاکستان کو کمزور کر کے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوشش کی، تاہم ایسی خواہشات بھارت کی صلاحیت اور حیثیت سے بڑھ کر تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی ایسے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تنازع کے دوران شہید ہونے والوں اور جنگی خدمات انجام دینے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، خصوصاً خواتین، بزرگ شہریوں اور بچوں کو جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو مقدس امانت، اپنی طاقت کو ذمہ داری اور اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتے ہیں۔
قومی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کو اس تنازع میں بھاری انسانی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ اس کے اثرات آنے والے برسوں تک برداشت کرتا رہے گا۔
آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن کے دوران پاکستان کے فتح میزائل سسٹم اور پاک فضائیہ کے اثاثوں نے دشمن کے 26 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے پاکستان کا دفاع اب کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے، اور خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی مستقبل کی مہم جوئی” کے دور رس اور تکلیف دہ نتائج برآمد ہوں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کی بدلتی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، ڈرونز، سائبر صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت پر مشتمل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ جدید دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کو بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔

