اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ معرکۂ حق تاریخ میں ایک ایسے عظیم کارنامے کے طور پر ثبت ہو چکا ہے جس میں دشمن کی بلا اشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ دشمن کو حقیقت کا ایسا سبق دیا گیا جس نے اُس کے ناقابلِ شکست ہونے کے زعم کو خاک میں ملا دیا۔
معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ معرکۂ حق اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات اور احسانات پر اُس کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کا دن ہے۔ آج ہم اس عزم، جرات اور استقامت کو یاد کر رہے ہیں جس کا مظاہرہ پاکستان نے آزمائش کی گھڑی میں کیا اور دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنے شہداء، اُن کے اہلِ خانہ اور ان غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جو فولادی دیوار بن کر اپنے وطن کے دفاع کے لیے ڈٹ گئے۔ بری، بحری، فضائی اور سائبر محاذوں پر ہماری افواج کے مربوط، منظم اور ہم آہنگ ردِعمل نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر منوایا۔
محمدشہبازشریف نے کہا کہ معرکۂ حق اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ پاکستانی قوم امن پسند ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر، باوقار، ثابت قدم اور غیرت مند قوم ہے، جسے نہ تو مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جارحیت کے ذریعے جھکایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معرکۂ حق تاریخ میں ایک ایسے عظیم کارنامے کے طور پر ثبت ہو چکا ہے جس میں دشمن کی بلا اشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ دشمن کو حقیقت کا ایسا سبق دیا گیا جس نے اُس کے ناقابلِ شکست ہونے کے زعم کو خاک میں ملا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اُن کی جراتمندانہ اور دلیرانہ قیادت پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہم ایئر چیف مارشل ظہیر احمد ابر اور ایڈمرل نوید اشرف کو بھی اُن کی مدبرانہ حکمتِ عملی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بہادر مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستانی قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے تناظر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔پاکستان نے ایک جانب اپنے امن کے عزم کو واضح کیا، تو دوسری جانب دفاعی توازن کو بحال کرتے ہوئے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور تحفظ یقینی بنایا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے یا اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور ہمہ جہت جواب دیا جائے گا۔ ہم اپنی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کے لیے پُرعزم اور مکمل طور پر چوکس ہیں۔ پاکستان “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے مکمل خاتمے اور دہشت گردی کے ناسور کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بھی ثابت قدمی سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
محمدشہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کا تذکرہ "کشمیر” کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا، جو برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار تزویراتی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ آزادی اور حقِ خودارادیت کی ہمیشہ بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ عالمی امن اور استحکام کے ضامن کے طور پر بھی ابھرا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں ایک اہم ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار اور قیامِ امن کے لیے ہماری مسلسل کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ پاکستان تنازع کے پُرامن حل کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئیے، آج معرکۂ حق کا ایک سال پورا ہونے پر اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم “فولادی دیوار” بن کر اپنے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے اور اس عظیم وطن کی مقدر کی شان و عظمت کے لیے بے لوث محنت جاری رکھیں گے۔
معرکۂ حق :دشمن کا غرور خاک میں مل گیا، پاکستان کی مسلح افواج نے ہر محاذ پر ناقابلِ تسخیر قوت ہونے کا ثبوت دیا،وزیراعظم

