اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت دو الگ اور خودمختار ادارے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے تابع نہیں ہے۔
فیصلے کے اہم نکات
عدالت کی جانب سے جاری کردہ 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں درج ذیل اہم قانونی پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے:
آئینی خودمختاری: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت آئینی طور پر آزاد ہیں اور کوئی ایک عدالت دوسری کی اپیلیٹ اتھارٹی (جہاں اپیل کی جا سکے) نہیں ہے۔
دائرہ اختیار کی تقسیم: 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد دونوں عدالتوں کے دائرہ اختیار تقسیم کر دیے گئے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت: ہائی کورٹس کے وہ مقدمات جو آرٹیکل 199 (آئینی دائرہ اختیار) کے تحت آتے ہیں، اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
سپریم کورٹ: دیگر تمام سول اور فوجداری اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت بدستور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں رہیں گی۔
آرٹیکل 189 کی تشریح: عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ وفاقی آئینی عدالت کے طے کردہ قانونی اصول دیگر عدالتوں پر لاگو ہوں گے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سپریم کورٹ اس کے ماتحت ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے میں تحریر کیا کہ آئین میں کہیں بھی یہ درج نہیں کہ ایک اعلیٰ عدالت کو دوسری کے تابع کیا جائے۔ آرٹیکل 189(1) کی ایسی تشریح جو ایک عدالت کو دوسرے کے ماتحت کر دے، آئینی ڈھانچے کے خلاف ہو گی۔ یہ تقسیم دراصل مختلف شعبوں میں خصوصی اختیار دینے کے لیے ہے تاکہ عدالتی نظام میں شفافیت اور تیزی آ سکے۔
تاریخی فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت برابر، کوئی کسی کے ماتحت نہیں!

