نیویارک/لندن: مشرقِ وسطیٰ کے کلیدی پیداواری خطے سے تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امیدوں پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے نیچے آئی ہیں۔
تیل کی قیمتوں کی تازہ ترین صورتحال
حالیہ کاروباری سیشن کے دوران تیل کی قیمتوں میں درج ذیل تبدیلی ریکارڈ کی گئی:
برینٹ کروڈ (Brent Crude): اس کی قیمت 1.89 ڈالر (1.7%) کی کمی کے بعد 107.98 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سیشن میں اس کی قیمت میں 4 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): امریکی تیل کے سودے 1.83 ڈالر (1.8%) گر کر 100.44 ڈالر کی سطح پر بند ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے اچانک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے والے آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک ‘جامع معاہدے’ کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، اسی لیے یہ فوجی کارروائی روکی گئی ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا کسی حتمی معاہدے پر دستخط ممکن ہیں یا نہیں۔
تاہم، صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی (Blockade) جاری رکھے گی۔
ایل ایس ای جی (LSEGجس سے خلیج میں پھنسے ہوئے ٹینکرز کی روانگی ممکن ہو سکے گی اور مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بتدریج بہتر ہوگی۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ قیمتیں اب بھی 100 ڈالر سے اوپر ہیں کیونکہ امن معاہدے کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں اور تجارتی ترسیل کو مکمل بحال ہونے میں وقت درکار ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ہفتے ہی برینٹ کروڈ کی قیمتیں مارچ 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ پیر کے روز امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خلیج میں بحری جہازوں کو نکالنے کے دوران ایران کی متعدد کشتیاں، کروز میزائل اور ڈرونز تباہ کیے تھے۔ اب صدر ٹرمپ کے اس نئے پینترا نے عالمی سیاست اور معیشت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

