کراچی :سندھ ہائیکورٹ نے متحدہ رہنما علی رضا عابدی قتل کیس میں دہشتگردی کی دفعات خارج کردیں، عدالت نے مجرموں کی عمر قید جیل میں کاٹی گئی سزا میں تبدیل کر دی اورجرمانے کی ادائیگی پررہائی کا حکم دیدیا۔
نجی ٹی وی چینلکے مطابق عدالت نے کہاکہ پولیس تحویل میں اعترافی بیان قانون شہادت کے تحت ناقابل قبول ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے کہاکہ کال ڈیٹا ریکارڈ کسی موبائل کمپنی سے تصدیق شدہ نہیں تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج نہ لینا اور اسلحہ کی عدم برآمدگی تفتیش کی سنگین خامیاں ہیں۔عدالت نے کہاکہ ہائی پروفائل کیس میں غیرپیشہ ورانہ اور کمزور تفتیش کی گئی،آئی جی سندھ تفتیشی افسران کی کارکردگی کا ازسرنوجائزہ لیں،استغاثہ کیس میں دہشتگردی کی دفعات کے اطلاق کو ثابت نہ کر سکا، ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا جس کے محرکات معلوم نہ کئے جا سکے۔
یاد رہے کہ علی رضا عابدی کو 25دسمبر 2018کو گھر کے باہر قتل کیا گیا تھا۔
علی رضا عابدی قتل کیس، مجرموں کی عمر قید جیل میں کاٹی گئی سزا میں تبدیل ، جرمانہ کی ادائیگی پر رہائی کاحکم

