سیالکوٹ:رہورٹ سلیم احمد اعوان شیخو سیالکوٹ میں پیش آنے والا ایک دلخراش ٹریفک حادثہ ایک غریب خاندان پر ایسا قیامت بن کر ٹوٹا کہ ایک ہی گھر سے دو جنازے اٹھ گئے، مگر انصاف کی راہ پھر بھی ہموار نہ ہو سکی۔ سول لائن کے علاقے میں کار حادثے کا شکار ہونے والا نوجوان حسنین اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ اس کے والدین پہلے ہی کینسر جیسے مہلک مرض سے لڑ رہے تھے جبکہ دو بھائی خصوصی افراد ہیں۔ بیٹے کی اچانک موت کا صدمہ اس قدر شدید تھا کہ اس کا باپ بھی 21 اپریل کو زندگی کی بازی ہار گیا۔ یوں ایک ہی دن میں گھر کے چراغ بھی بجھے اور سہارا بھی چھن گیا۔ سول لائن پولیس نے مدعی مقدمہ جہانزیب جو متوفی کا کزن ہے اسکے ہمراہ انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کے تحت سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزم کی گاڑی کا سراغ لگایا اور ایک کمپاؤنڈ تک پہنچ گئی، جہاں چار گھر موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق وکلا کی جانب سے ملزم کو پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، جس پر پولیس وقتی طور پر واپس آ گئی، مگر یہ یقین دہانی وعدہ ثابت نہ ہو سکی۔ جب انتظار طویل ہوا تو پولیس نے دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے ملزم فہد جمیل کے گھر چھاپہ مارا، جہاں شدید مزاحمت کے باوجود اسے گرفتار کر لیا گیا اور مقامی پولیس اسٹیشن میں کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ ملزم فہد ڈسٹرکٹ بار کی رکن امن دستگیر کا دیور ہے بعد ازاں فریقین کے درمیان دیت پر صلح ہو گئی اور ملزم عدالت سے ڈسچارج ہو گیا، مگر اس کے بعد کہانی نے نیا رخ اختیار کیا۔ بار کی خاتون ممبر کے گھر چھاپے کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کیا، عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر کا گھیراؤ کیا۔
اس دباؤ کے نتیجے میں ڈی پی او سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے ایس ایچ او سول لائن اعجاز ساہی کو معطل کر کے کلوز لائن کر دیا