لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی تاریخ کے پہلے اور سب سے بڑے ریلیف پروگرام ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ کا ڈیجیٹل افتتاح کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے پنجاب بھر کی 50 ہزار بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
صوبائی معاون خصوصی راشد اقبال نصراللہ نے رحمت کارڈ پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے صوبائی زکوٰۃ فنڈ سے 5000 ملین (5 ارب) روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ رحمت کارڈ کے ذریعے ہر منتخب بیوہ اور یتیم بچے کو ایک لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں 50,000 مستحقین کو اس نیٹ ورک میں شامل کیا گیا ہے۔
حکومت نے اس پروگرام کو مکمل طور پر میرٹ اور شرعی اصولوں کے مطابق رکھنے کے لیے سخت معیارات وضع کیے ہیں:
کون اہل ہے؟: صرف شرعی طور پر زکوٰۃ کے مستحق مسلم بیوائیں اور یتیم بچے ہی اس کارڈ کے اہل ہوں گے۔
کون اہل نہیں؟: سرکاری ملازمین، پنشنرز اور صاحبِ نصاب افراد اس امداد کے حقدار نہیں ٹھہریں گے۔
مستحقین کا انتخاب پنجاب سماجی و اقتصادی رجسٹری (PSER) کے ڈیٹا بیس اور ضلعی کوٹے کی بنیاد پر ہوگا۔ جن کی رجسٹریشن نہیں، ان کے ڈیٹا کی تصدیق نادرا سے کی جائے گی۔
درخواست دینے کا طریقہ اور ادائیگی
مستحقین کی سہولت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے:
ویب پورٹل: امیدوار rahmatcard.punjab.gov.pk پر آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔
موبائل ایپ: رحمت کارڈ کی مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے بھی رجسٹریشن ممکن ہے۔
ہیلپ لائن: مزید معلومات کے لیے 1077 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ادائیگی: امداد کی رقم جاز کیش (JazzCash) والٹ اکاؤنٹ کے ذریعے براہِ راست منتقل ہوگی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سروس چارجز حکومت ادا کرے گی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ پراجیکٹ قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی میں شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ:میری خواہش ہے کہ پنجاب میں کوئی بیوہ یا یتیم بچہ خود کو بے سہارا اور بے بس محسوس نہ کرے۔ رحمت کارڈ کا مقصد مستحقین کے سماجی وقار اور معاشی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے۔ ہم روایتی سیاست کے بجائے عوام کی خدمت کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔“
اس منصوبے کو عوامی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ براہِ راست معاشرے کے سب سے پسماندہ طبقے کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

