اسلام آباد:(عامر علی )

چوری ہونے والا کیمرہ فیس ریکگنیشن (Face Recognition) ٹیکنالوجی سے لیس تھا، جس کی مالیت تقریباً 90 ہزار روپے تھی۔یہ کیمرہ 19 اپریل کو آف لائن ہوا، لیکن حیران کن طور پر انتظامیہ کو اس کی چوری کی تصدیق کرنے میں 9 دن لگ گئے۔ جب 28 اپریل کو تکنیکی ٹیم موقع پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ کیمرہ غائب ہے۔ سیف سٹی حکام کے پاس واردات کی آخری ریکارڈنگ موجود ہے جس میں ملزم کو کیمرہ چوری کرتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود کئی روز تک اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔
یہ واقعہ سیف سٹی کے ردِعمل (Response) کے طریقہ کار میں موجود بڑی دراڑوں کو واضح کرتا ہے۔ اسلام آباد میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں:
اپریل 2024: کورال فلائی اوور سے 11 لاکھ روپے مالیت کے دو کیمرے خراب پائے گئے مگر کارروائی میں تاخیر ہوئی۔
ستمبر 2023: مارگلہ تھانے کے بالکل قریب سے 1 لاکھ 20 ہزار روپے کا کیمرہ چوری ہوا، جس کا علم پولیس کو دو ہفتے بعد ہوا۔
اکتوبر 2025: جی-9/2 کے علاقے سے سیف سٹی سسٹم کی 35 ہزار روپے مالیت کی بیٹری بھی چوری کر لی گئی تھی۔
یہ تمام واقعات اس وقت پیش آ رہے ہیں جب حکومت اس منصوبے پر پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہے۔گزشتہ سال شہر کی کوریج 90 فیصد تک بڑھانے کے لیے 7.499 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی تھی۔یہ منصوبہ 2016 میں 6 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جو نظام اپنی آنکھ (کیمرہ) چوری ہونے پر 9 دن تک بے خبر رہتا ہے، وہ شہر میں ہونے والے دیگر جرائم کو روکنے میں کتنا مؤثر ہو سکتا ہے؟ سیف سٹی کا یہ حالیہ واقعہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اس وقت ڈیپارٹمنٹ کو شہر سے زیادہ اپنی حفاظت کی ضرورت ہے۔

