مری (رپورٹ :راشد مغل)
سیاحتی مرکز مری میں لاک ڈاؤن، جاری ترقیاتی منصوبوں اور سڑکوں کی تعمیر نے مقامی کاروبار، سیاحت اور عوامی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ تاجر برادری نے انتظامیہ کو واضح وارننگ دیتے ہوئے اتوار تک لاک ڈاؤن ختم یا نرم کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، بصورتِ دیگر پیر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔
مرکزی انجمن تاجران مری کے عہدیداران کے مطابق گرمیوں کے سیزن کے آغاز کے باوجود ہوٹل انڈسٹری، ریستوران، دکانوں اور دیگر کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ ہل سائیڈ آپریشن اور مری راولپنڈی جی ٹی روڈ کی طویل عرصے سے جاری تعمیر نے شہر تک رسائی مزید مشکل بنا دی ہے، جس کے باعث سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاجر رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک طرف کاروبار بند ہیں تو دوسری طرف کرایے، بجلی کے بل اور دیگر اخراجات بدستور جاری ہیں، جس سے چھوٹے کاروباری افراد شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعدد بار ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کے باوجود کوئی مؤثر ریلیف فراہم نہیں کیا گیا اور معاملہ مسلسل التوا کا شکار ہے۔
مقامی شہری بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں۔ روزمرہ ضروریات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کی کمی اور مہنگائی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تاجر برادری نے واضح کیا ہے کہ اگر اتوار تک لاک ڈاؤن میں نرمی یا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو پیر سے شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔


