تل ابیب: جس شخص کے حکم پر غزہ اور فلسطین کی گلیوں میں معصوم بچوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں، آج وہ خود اپنی زندگی کی بقا کے لیے ایک ’مہلک دشمن‘ کے نشانے پر ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سالانہ طبی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مثانے کے کینسر (Malignant Tumor) کا شکار رہے ہیں، جس کے لیے ان کی خفیہ سرجری کی گئی۔
76 سالہ بنجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنی بیماری کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ معمول کے طبی معائنے کے دوران ان کے مثانے میں ایک سینٹی میٹر سے بھی کم کی ایک ’مہلک رسولی‘ دریافت ہوئی تھی۔
نیتن یاہو نے اس بات کو قبول کیا کہ یہ رسولی ایک سرجری کے ذریعے نکالی گئی۔نیتن یاہو کے مطابق، انہوں نے اپنی صحت کی رپورٹ اس لیے چھپا کر رکھی تاکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران تہران کو اسرائیل کے خلاف ”پروپیگنڈا“ کرنے کا موقع نہ مل سکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اب ”بہترین جسمانی حالت“ میں ہیں اور خطرہ ٹل چکا ہے۔
فلسطینی بچوں کی آہیں اور نیتن یاہو کی ’فطرت‘
سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کے علمبردار اس طبی رپورٹ کو ایک الگ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ”جب مجھے کسی ممکنہ خطرے کی اطلاع ملتی ہے، تو میں اس کا فوری تدارک کرتا ہوں، چاہے وہ قومی سطح پر ہو یا ذاتی“۔
”کیا وہ معصوم فلسطینی بچے جن کی زندگیوں کو نیتن یاہو نے ’قومی سلامتی‘ کے نام پر مٹایا، انہیں بھی اپنے تحفظ کا کوئی موقع ملا تھا؟“
سوشل میڈیا پر صارفین اسے ’مکافاتِ عمل‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہزاروں معصوم بچوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے والا شخص آج خود ایک ’خلیے‘ کی بغاوت (کینسر) سے خوفزدہ ہے۔
نیتن یاہو کی صحت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ ایک ہولناک جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ ”اللہ کا شکر ہے، یہ سب میرے پیچھے (ختم) ہو چکا ہے“، ان کی اس کوشش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو اب بھی ایک طاقتور لیڈر کے طور پر دکھانا چاہتے ہیں۔ تاہم، کینسر جیسی بیماری کی موجودگی نے ان کے سیاسی مستقبل اور طویل المدتی قیادت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
نیتن یاہو کی صحت اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک اخلاقی اور سیاسی بحث بن چکی ہے۔ کیا یہ رسولی واقعی ختم ہو چکی ہے، یا یہ قدرت کی طرف سے اس جبر کا ایک چھوٹا سا جواب ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے معصوم جانوں پر ڈھایا جا رہا ہے؟ دنیا اب نیتن یاہو کے اگلے اقدامات کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے۔

