کراچی / کوئٹہ: پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال (IRR) کی قدر میں اچانک کئی گنا اضافے نے جہاں ایک طرف ہلچل مچا دی ہے، وہیں اب ہزاروں مڈل کلاس پاکستانیوں کے لیے یہ ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جن شہریوں نے لاکھوں روپے کے ریال خریدے تھے، اب وہ مارکیٹ میں خریدار نہ ہونے کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ: 2500 سے 10,000 کا سفر
مارکیٹ ذرائع کے مطابق، چند ہفتے قبل تک ایرانی ریال کا ایک بنڈل یعنی ایک کروڑ ریال (10 ملین IRR) محض 2,500 روپے میں دستیاب تھا۔ تاہم، حالیہ علاقائی کشیدگی اور سرحد پار تجارت میں اضافے کی افواہوں کے باعث اس کی قیمت اچانک 7,000 سے 10,000 روپے تک جا پہنچی۔ اس اچانک اضافے کو دیکھ کر بڑی تعداد میں عام شہریوں نے اپنی جمع پونجی ایرانی ریال خریدنے میں لگا دی۔
صورتحال اس وقت سنگین ہوئی جب قیمتیں عروج پر پہنچنے کے بعد مارکیٹ میں خریدار غائب ہو گئے۔
ملک بھر کے بڑے فاریکس ڈیلرز اور منی چینجرز نے اب ایرانی ریال واپس لینے یا خریدنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ایرانی ریال کی عالمی سطح پر کوئی قدر نہیں ہے اور پاکستان میں اس کی قیمت محض ‘سٹہ بازی’ (Speculation) کی بنیاد پر بڑھی تھی۔ اب مارکیٹ میں طلب ختم ہو چکی ہے، اس لیے وہ مزید ریال نہیں خرید سکتے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی ریال کی مانگ میں اضافے کی دو بڑی وجوہات تھیں:
بارڈر ٹریڈ: پاکستان اور ایران کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات اور خوراک کی غیر رسمی تجارت میں ریال کا استعمال۔
یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاک-ایران تعلقات میں بہتری سے ریال کی قدر مزید بڑھے گی، جسے سٹہ بازوں نے خوب اچھالا۔
معروف ایرانی صحافی جون حسین نے بھی پاکستانی شہریوں کو ایرانی کرنسی خریدنے سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ شائد ایران موجودہ کرنسی منسوخ کردے۔
ایرانی صحافی جون حسین پاکستانیوں کو ایرانی کرنسی خریدنے سے منع کررہے ہیں۔ کیونکہ اس سے نقصان ہوگا۔ اگر ایران سے امریکی پابندیاں ہٹالی جائیں تو بھی کرنسی جلد اوپر نہیں جائے گی۔ اور اس وقت کرنسی اتنی زیادہ ڈی ویلیو ہے کہ ایران شاید نئی کرنسی لے آئے۔pic.twitter.com/XmA3opmiOa
— Shahid Abbasi (@ShahidabbasiPk) April 20, 2026
ایکسچینج ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی ریال دنیا کی کمزور ترین کرنسیوں میں سے ایک ہے، اس میں طویل مدتی سرمایہ کاری خودکشی کے مترادف ہے۔
غیر منظم مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر ایرانی ریال کے جعلی نوٹوں کی گردش کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے ڈیلرز نے اس کا لین دین بند کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے 8 سے 10 ہزار روپے میں ایک کروڑ ریال خریدے ہیں، وہ اب اسے کوڑیوں کے دام بیچنے پر مجبور ہو سکتے ہیں کیونکہ اوپن مارکیٹ میں خریداروں کا فقدان ہے۔
کراچی اور لاہور سمیت بڑے شہروں کے منی چینجرز کے باہر شہریوں کا رش دیکھا گیا جو اپنے ریال بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ڈیلرز کی جانب سے "ناٹ ٹیکنگ بیک” (Not taking back) کے بورڈز نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔.

