نیویارک/ اسلام آباد:عالمی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی ڈیل کی اصل چابی نہ واشنگٹن کے پاس تھی اور نہ تہران کے پاس، بلکہ اس پورے عمل کا مرکز پاکستان تھا۔ رپورٹ کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک ماہر تزویراتی کھلاڑی کی طرح تہران، واشنگٹن اور ریاض کے درمیان رابطوں کا وہ پل قائم کیا جس نے ایک یقینی عالمی تباہی کو ٹال دیا۔
کیتھی گینن کے مطابق، پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی۔ اس کی بنیاد مئی 2025 کی وہ چار روزہ جنگ ہے جس میں پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کی دہائیوں پرانی فوجی بالادستی کے مفروضے کو دفن کر دیا۔ چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے فضاؤں میں لڑی گئی اس جنگ میں بھارتی فضائیہ کے تین جدید ’رافیل‘ طیاروں سمیت کئی طیارے مار گرائے گئے، جس نے پاکستان کو وہ عالمی وقار اور خود اعتمادی دی جس کی بدولت آج وہ ایک ناگزیر ثالث بن کر ابھرا ہے۔
اسلام آباد نے امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو ایک ایسا ’سفارتی راستہ‘ فراہم کیا جس سے وہ اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے جنگ سے باہر نکل سکیں۔ پاکستان اب ایک ’بوجھ‘ یا ’ضرورت مند‘ ملک نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی فوجی طاقت بن چکا ہے جو چین، امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
لیبیا کے ساتھ ساڑھے چار ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹیجک دفاعی تعاون اس نئی فوجی خود مختاری کے ثبوت ہیں۔
عالمی خبر رساں ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے، لیکن اسرائیل اب بھی اس امن عمل میں رخنہ ڈال سکتا ہے۔ لبنان پر اسرائیلی حملے محض حزب اللہ کے خلاف نہیں بلکہ دریائے لیطانی تک زمین ہتھیانے اور لاکھوں لبنانیوں کو بے گھر کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جو خطے کے امن کو دوبارہ خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
مستقبل کا مرکز: اسلام آباد
اے پی کے مطابق، پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے ایشیا کے دو خطرناک ترین تھیٹرز (افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ) میں ایک ناگزیر ثالث تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان ہی میں ہونے کی توقع ہے، جو اس بات کی تصدیق ہے کہ عالمی امن کی ڈور اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہاتھوں میں ہے۔
’امن کی چابی اسلام آباد کے پاس‘: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی مہارت نے ٹرمپ کو جنگ سے نکال لیا

