اسلام آباد :پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ مذاکرات براہ راست ہو رہے ہیں جن میں امریکا، ایران اور پاکستان کے وفود شریک ہیں۔
براہ راست مذاکرات کا آغاز اس بات کا ایک اہم امتحان ہے کہ آیا یہ جنگ بندی، جو پہلے ہی کمزور پڑتی دکھ رہی ہے، اتنی مضبوط ہے کہ ایران کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی پائیدار حل تک پہنچا سکے۔ دو سرکاری عہدیداروں نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔
ایک ذریعے کے مطابق ابتدائی بات چیت ’مثبت‘ رہی ہے۔ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مختصر وقفے کے بعد سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان آمنے سامنے سہ فریقی مذاکرات ہو رہے ہیں، یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں پاکستان نے ثالثی کی ہے۔
یہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات ہیں۔
اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ مذاکرات کیسے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایسا لگتا ہے کہ امریکیوں اور ایرانیوں نے اپنی اپنی تجاویز میں ایسے نکات دیکھے ہیں جن کے خیال میں وہ پیش رفت کر سکتے ہیں۔
اس جنگ نے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کیا، مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، اور ہزاروں لوگ مارے گئے۔
اگر جنگ بندی میں توسیع اور حتمی امن معاہدہ ہو جاتا ہے تو بہت سے لوگ سکھ کا سانس لیں گے۔
45 سال بعد امریکا ایران اعلی ترین سطح کے براہ راست تاریخی مذاکرات، پاکستانی ثالث بھی موجود،

