واشنگٹن ڈی سی :امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے ایئر فورس ٹو میں سوار ہو گئے ہیں۔
پاکستان روانگی سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے ’واضح ہدایات‘ دی ہیں، اور انہیں توقع ہے کہ بات چیت مثبت ہوگی۔
طیارے میں سوار ہونے سے قبل اُن کا کہنا تھا، ’ہم مذاکرات کے منتظر ہیں‘ اور مزید کہا کہ اگر ایران ’خیرسگالی‘ کا مظاہرہ کرتا ہے تو امریکا ’کھلے دل سے آگے بڑھنے‘ کے لیے تیار ہے۔ تاہم اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے ’ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی‘ تو امریکہ مثبت ردعمل نہیں دے گا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعہ کے روز ایران کو خبردار کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ ’نہ کھیلے‘۔
ان مذاکرات میں جے ڈی وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے، تاہم پاکستان میں ہمارے نمائندے کے مطابق ایرانی وفد کی آمد کا ابھی انتظار ہے۔
وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے طریقہ کار کے بارے میں بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں ، یہ واضح نہیں کہ بات چیت براہِ راست ہوگی یا بالواسطہ، اور نہ ہی اس ملاقات سے متعلق کوئی واضح توقعات بتائی گئی ہیں۔
تاہم، مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس کی آمد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے حکومتی رابطے کا ایک نادر موقع ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے براہِ راست رابطہ اس وقت ہوا تھا جب صدر باراک اوباما نے ستمبر 2013 میں ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی کو فون کیا تھا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات کی جا سکے۔
ٹرمپ کی ’خاص ہدایات‘ اور وینس کا الٹی میٹم: امریکی نائب صدر کا طیارہ فضا میں، کیا پاکستان میں تاریخ رقم ہونے والی ہے؟

