اسلام آباد +لاہور:جنگ نے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں جس کے باعث مہنگائی کے ستائے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں ایک اعشاریہ نو تین فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح بارہ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جس نے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے نے مہنگائی کی اس آگ کو مزید ہوا دی ہے جس کے نتیجے میں ٹماٹر، آلو اور پیاز جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
ایندھن اور ایل پی جی کے نرخوں میں اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھے ہیں بلکہ کچن کا بجٹ سنبھالنا بھی محال ہو گیا ہے کیونکہ بیف، مٹن اور دالوں کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس لہر نے سب سے زیادہ کم آمدنی والے دیہاڑی دار طبقے کو متاثر کیا ہے جن کی ماہانہ آمدنی سترہ سے بائیس ہزار روپے کے درمیان ہے۔ اگرچہ آٹے اور گھی کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے لیکن پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے اس ریلیف کو بے اثر کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور وہ اب اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی قرض لینے پر مجبور ہیں۔
مہنگائی نے عوام کی چولیں ہلا دیں، دیہاڑی دار خالی ہاتھ گھر جانے پر مجبور

