بیروت/ واشنگٹن: سابق معروف اداکارہ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر میا خلیفہ ایک بار پھر عالمی سرخیوں کا مرکز بن گئی ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کا پیشہ نہیں بلکہ ان کے آبائی وطن لبنان پر ہونے والی اسرائیلی بمباری پر ان کا شدید غم و غصہ ہے۔ میا خلیفہ نے ایک جذباتی ویڈیو پیغام میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر آنسو بہاتے ہوئے امریکہ کی فوجی امداد کی پالیسی پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
"میرے ٹیکس کے پیسے اور میرے ہی اپنوں کا لہو”
میا خلیفہ، جو کہ لبنانی نژاد امریکی شہری ہیں، نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد دراصل امریکی شہریوں کے ٹیکس سے آتی ہے۔ انہوں نے آبدیدہ ہو کر کہا:
”یہ دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے کہ میں جو ٹیکس امریکا میں جمع کرواتی ہوں، وہی پیسہ بم بن کر میرے اپنے ملک (لبنان) کے معصوم شہریوں پر گرایا جا رہا ہے۔ یہ میرے ہی پیسوں سے میرے ملک پر حملہ ہے۔“
لبنان میں جاری حالیہ کشیدگی اور مبینہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے میا خلیفہ نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو "جنگ بندی” کی خبریں سنائی جا رہی ہیں جبکہ حقیقت میں لبنانی عوام اب بھی بمباری کی زد میں ہیں۔ ان کے اس بیان نے خاص طور پر ان امریکی شہریوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت اور فوجی امداد کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
میا خلیفہ کا یہ بیان سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ جہاں ایک بڑی تعداد ان کے جرات مندانہ موقف اور انسانی ہمدردی کی تعریف کر رہی ہے، وہیں ناقدین ان کے ماضی کے حوالے سے طنز و مزاح کے تیر بھی برسا رہے ہیں۔ تاہم، میا خلیفہ پچھلے کچھ عرصے سے فلسطین اور لبنان کے حق میں مسلسل آواز اٹھا کر خود کو ایک متحرک سیاسی کارکن (Activist) کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
امریکی ٹیکس، اسرائیلی بم اور میا خلیفہ کے آنسو: "میرے ہی پیسوں سے میرا ملک برباد کیا جا رہا ہے!”

