اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔تقریباً پینتالیس منٹ سے زائد جاری رہنے والی اس خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا، جنہوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، اور وزیراعظم کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان رواں ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش قبول کی۔
مع تقدمنا نحو محادثات إسلام آباد، أود أن أعرب عن خالص وعمـيق امتناننا للدول الشقيقة: جمهورية الصين الشعبية، والمملكة العربية السعودية، وجمهورية تركيا، وجمهورية مصر العربية، ودولة قطر، لما قدمته من دعمٍ قيّم وكامل الجهود من أجل التوصل إلى وقفٍ لإطلاق النار، وإتاحة الفرصة للمساعي… https://t.co/oUPBt31Lkn
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 8, 2026
وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی اپنی تعظیم کا اظہار کیا۔صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے پاکستانی عوام کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئےاس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے فیصلہ کن خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ساتھ دینے پر برادر ممالک اور عالمی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نےبرادر ممالک کی انمول حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور قطر کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے جنگ بندی تک پہنچنے اور جامع مذاکراتی عمل کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کی کوششوں سے ہی اس تنازع کے فیصلہ کن خاتمے کا موقع فراہم ہوا ہے۔
شہباز شریف نے خلیج تعاون کونسل برائے عرب ریاستوں کی قیادت کی بھی تعریف کی اور کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے ان کی مسلسل حمایت ہماری کوششوں کی کامیابی میں ایک لازمی عنصر رہی ہے۔
وزیراعظم نے امریکا سمیت تمام دوست ممالک کی قیادتوں کو سراہتے ہوئے کہا:
”تمام برادر ممالک کی قیادتوں نے امن کا موقع فراہم کرنے میں بڑی حکمت اور غیر معمولی اسٹریٹجک دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔“
انہوں نے عالمی برادری اور تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مل کر خطے اور اس سے باہر مستقل اور پائیدار امن کو مستحکم کرنے کے لیے کام کریں۔

