نیویارک/لندن/ریاض: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی تازہ ترین دھمکیوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ سیاسی تناؤ کے باعث سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
مارکیٹ سے موصول ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت میں 2.86% کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح، عالمی بینچ مارک برطانوی خام تیل (Brent) کی قیمت بھی 1.5% اضافے کے ساتھ 111 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ترجمان کے مطابق، اوپیک پلس ممالک بشمول سعودی عرب اور روس نے مئی کے مہینے سے روزانہ دو لاکھ بیرل سے زائد اضافی تیل نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اوپیک حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ میں استحکام لانا اور قیمتوں میں جاری غیر یقینی اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنا ہے تاکہ عالمی سپلائی لائن متاثر نہ ہو۔
معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ اوپیک کی جانب سے پیداوار میں اضافے کا اعلان ایک مثبت قدم ہے، لیکن تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جا سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی کا یہ دور طویل ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑے گا۔
عالمی قیمتیں بے قابو: امریکی خام تیل 115 ڈالر تک پہنچ گیا، سرمایہ کاروں میں شدید تشویش

