بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز نیٹورک)
مستونگ میں پرائس کنٹرول کمیٹی کی مبینہ غفلت اور نااہلی کے باعث تندور مالکان کی من مانیاں بے قابو ہو گئی ہیں۔سرکاری نرخ ناموں اور مقررہ وزن کی کھلم کھلا خلاف ورزی معمول بن چکی ہے جبکہ ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔شہریوں کے مطابق 300 گرام وزن کی روٹی کے بجائے تقریباً 150 گرام یا اس سے بھی کم وزن کی روٹی 40 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ تندور مالکان کی جانب سے ناجائز منافع خوری نے غریب اور مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار جرمانے اور وارننگز دیے جانے کے باوجود بعض تندوروں پر مبینہ طور پر کیمیکل ملا دودھ اور دہی فروخت کیا جا رہا ہے، جو انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ شہریوں کا سوال ہے کہ اگر کارروائیاں واقعی مؤثر ہیں تو پھر یہ غیر قانونی کاروبار آج تک کیوں جاری ہے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر مستونگ اور اسسٹنٹ کمشنر مستونگ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ضلع بھر کے تندوروں، دودھ فروشوں اور دہی فروشوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناجائز منافع خوری، کم وزن روٹی اور مضر صحت اشیاء کی فروخت کا سلسلہ نہ روکا گیا تو شدید احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

