پاکستان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کے تحت تکنیکی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے منعقد ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو پریس بریفننگ کے دوران بتایا کہ کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات میں صرف عارضی وقفہ آیا ہے اور یہ عمل آئندہ ہفتے پیر یا منگل کو دوبارہ شروع ہو گا۔
جب ان سے مذاکرات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’تکنیکی مذاکرات جاری ہیں جو آئندہ ہفتے، شاید پیر یا منگل کو دوبارہ شروع ہوں گے۔ یہ ایک عارضی وقفہ ہے اور مذاکرات جاری رہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا وفد تکنیکی مذاکرات کے پچھلے مرحلے کے دوران موجود تھا اور دوبارہ شروع ہونے پر بھی وفد وہاں موجود ہو گا۔‘طاہر اندرابی نے وضاحت کی کہ مزاکراتی عمل ختم نہیں ہوا اور فریقین تکنیکی سطح پر مشاورت کر رہے ہیں، بات چیت وہیں سے دوبارہ شروع کی جائے گی جہاں روکی گئی تھی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بطور ثالث پاکستان اور قطر مزید پیش رفت کے لیے فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ان کے مطابق اگلے مرحلے کے لیے تین تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں، پہلا گروپ نیوکلیئر پروگرام کے معاملات کو دیکھ رہا ہے جبکہ دوسرا پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے امور کا جائزہ لے رہا ہے، اسی طرح تیسرا گروپ لبنان کی صورت حال پر کام کر رہا ہے۔
طاہر حسین اندرابی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
پاکستان کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن شہر میں ہونے والے مذاکرات میں کچھ امور طے پا گئے تھے اور ثالثوں پاکستان اور قطر نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا تھا جس میں تکنیکی مذاکرات کے 60 روز تک جاری رہنے کا بتایا گیا تھا۔
اس بات چیت میں امریکی و ایران کے اعلیٰ وفود نے شرکت کی تھی جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک ہوئے تھے۔
ترجمان نے ایرانی صدر کے حالیہ دورے کے حوالے سے بتایا کہ اس کی دعوت انہیں وزیراعظم شہباز شریف نے دی تھی اور دورے کے دوران ان کی وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا۔
امریکا ایران معاہدہ: تکنیکی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے ہوگا، پاکستان

