نیویارک / لندن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات نے عالمی توانائی کی منڈی میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش کے خوف سے خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اچھال ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں کا نیا ریکارڈ
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں درج ذیل سطح پر پہنچ گئی ہیں:
برینٹ خام تیل: قیمت میں 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 111 ڈالر 43 سینٹ فی بیرل کی سطح پر آگئی۔
ڈبلیو ٹی آئی (WTI): امریکی خام تیل کی قیمت میں 2.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 114 ڈالر 57 سینٹ فی بیرل تک جا پہنچی۔
تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے جس میں انہوں نے ایران کو کڑی تنبیہ کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سابقہ ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کا "سخت ترین ردعمل” دے گا جس کے نتائج تہران کے لیے ہولناک ہوں گے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی کل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں معمولی سی رکاوٹ بھی عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم شروع ہوا تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کو بدترین کساد بازاری (Recession) میں دھکیل دے گا۔
فی الوقت عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں اور کشیدگی میں کمی نہ آئی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ترقی پذیر ممالک سمیت پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا اور بے قابو طوفان لا سکتا ہے۔
ٹرمپ کی “کہہ مکرنیوں“ کے بعدعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے

