لاہور: صوبائی دارالحکومت کے سب سے بڑے چلڈرن ہسپتال میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی ایک گاڑی سے ڈاکٹر کی لاش برآمد ہوئی۔ ذرائع کے مطابق گاڑی سے ملنے والی لاش ہیماٹالوجی کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر احمد لطیف کی بتائی جاتی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی ہسپتال کی پارکنگ میں گزشتہ کئی دنوں سے کھڑی تھی، جس سے شدید تعفن اٹھنے پر عملے کو شبہ ہوا۔ جب گاڑی کو کھول کر دیکھا گیا تو اس کے اندر سے ڈاکٹر احمد لطیف کی لاش ملی جو کہ مبینہ طور پر کم از کم چار دن پرانی بتائی جا رہی ہے۔ نعش کی حالت سے اندازہ ہوتا ہے کہ موت کئی روز قبل واقع ہوئی، تاہم ہسپتال کی مصروف ترین پارکنگ میں کسی کو اس بات کی بھنک تک نہ پڑی کہ ایک ڈاکٹر کی گاڑی میں ان کی لاش موجود ہے۔
اس واقعے نے ہسپتال انتظامیہ کے سکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ پارکنگ ایریا جیسے حساس مقام پر ایک گاڑی کا کئی دن تک لاوارث کھڑے رہنا اور لاش سے تعفن اٹھنے تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونا، انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر گاڑی اور لاش کو تحویل میں لے لیا ہے اور فارنزک ٹیموں کو جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ خودکشی کا واقعہ ہے، طبعی موت ہے یا اسے قتل کر کے گاڑی میں چھپایا گیا ہے۔
ڈاکٹر کی لاش ملنے کے بعد ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہسپتال کے مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہسپتال جیسے حساس ادارے میں اس طرح کا واقعہ سکیورٹی کے دعووں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ڈاکٹر احمد لطیف کی گاڑی پارکنگ میں کب داخل ہوئی تھی اور اس دوران ان کے ساتھ کون کون رابطے میں تھا۔
چلڈرن ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی سے ڈاکٹر کی 4دن پرانی لاش برآمد؛ شہر بھر میں سنسنی! ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر بڑے سوالات

