واشنگٹن / لندن:سابق امریکی صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں نائب مشیر برائے قومی سلامتی رہنے والے بین رہوڈز نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر روایتی طرزِ حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ‘ٹوڈے’ میں گفتگو کرتے ہوئے بین روڈز نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت وائٹ ہاؤس کا حال ایسا ہے جیسے ’ایک شخص ایک کمرے میں بیٹھ کر پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہو‘۔
بین رہوڈز نے ٹرمپ کے فیصلے کرنے کے طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اپنے سیاسی اور عسکری ماہرین کے مشوروں کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ٹرمپ وہ ‘معمول کا طریقہ کار’ اختیار نہیں کر رہے جو ایک عالمی طاقت کے سربراہ کو زیب دیتا ہے، بلکہ وہ تمام اداروں کو بائی پاس کر کے تن تنہا فیصلے لے رہے ہیں۔
بین رہوڈز نے ایران کے سویلین انفراسٹرکچر (شہری تنصیبات) کو نشانہ بنانے کی حالیہ دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘جنگی جرائم’ کی ترغیب قرار دیا۔ انہوں نے ایک بڑا سوال اٹھاتے ہوئے کہا:
"ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکی فوج ٹرمپ کے غیر قانونی احکامات کو مسترد کرنے اور انہیں ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے؟”
سابق مشیر نے اس حقیقت پر زور دیا کہ ٹرمپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی جنگ کا اختتام بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے تجزیہ پیش کیا کہ اگرچہ حالیہ حملوں نے ایران کو عسکری طور پر زخمی کیا ہے، لیکن تہران نے آبنائے ہرمز میں اپنی طاقت دکھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی معیشت کا گلا گھونٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
بین روڈز کے مطابق، ایران کا عالمی سپلائی لائن پر دباؤ ڈالنا اسے ایک مختلف محاذ پر مضبوط ثابت کر رہا ہے، جسے واشنگٹن نظر انداز نہیں کر سکتا۔
ٹرمپ کے اقدامات جنگی جرائم کی ترغیب، دیکھنا ہوگا کہ امریکی فوج ”نو“ کہنے کیلئے تیارہے یانہیں، بین رہوڈز

