لاہور:(آصف چوہدری)
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، سابق اسپیشل سیکرٹری طارق محمود کو ’پروجیکٹ امپلی منٹیشن یونٹ‘ (PIU) کا پروگرام ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ یونٹ نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی استعداد کار بڑھانے (Capacity Building) کے لیے بنایا گیا ہے۔ریٹائرڈ افسر طارق محمود کو 11 لاکھ 37 ہزار 500 روپے ماہانہ لیمپ سم (Lump Sum) تنخواہ دی جائے گی۔نامزد افسر کا تجربہ انتظامی امور (تبادلے، تعیناتیاں اور ترقیاں) تک محدود ہے، جبکہ ان کا عہدہ خالصتاً تعلیمی اور طبی مہارت کا متقاضی ہے۔
طبی اور تعلیمی حلقوں کا احتجاج
اس تقرری کو ’پسندیدہ نوازنے‘ (Blue-eyed appointment) کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق:
نرسنگ اور ہیلتھ پروفیشنلز کی ٹریننگ میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجز کا کام ہے، جہاں پی ایچ ڈی اور ایم فل ڈاکٹرز یہ فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ایک بیوروکریٹ اس تعلیمی شعبے کا ماہر کیسے ہو سکتا ہے؟یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) 2007 سے ایسے 20 پروگرامز چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کنگ ایڈورڈ، فاطمہ جناح، نشتر اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹیاں پہلے ہی یہ کام کر رہی ہیں۔ ایک نیا یونٹ بنانا عوامی پیسے کا ضیاع ہے۔
2018 میں سپریم کورٹ نے اسی طرح کے ایک ’اسٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ‘ کی تشکیل اور ریٹائرڈ افسران کی تقرری کو انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔
اس اہم معاملے پر موقف جاننے کے لیے جب محکمہ صحت کے ترجمان اور وزیرِ صحت سے رابطہ کیا گیا تو ان کی جانب سے پیغامات اور کالز کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔حکام کی اس خاموشی نے شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا یہ یونٹ واقعی طبی نظام کی بہتری کے لیے بنایا گیا ہے یا کسی خاص شخصیت کو ریٹائرمنٹ کے بعد ’شاہانہ ریلیف‘ فراہم کرنے کے لیے؟
(بشکریہ ڈان نیوز)

