ادکارہ ماڈل انجلین ملک نے کہا ہے کینسر کے مہلک مرض کے چھٹکارے کے بعد میں سمجھتی ہوں کہ اللہ نے مجھے نئی زندگی دی ۔ آگے نکلنے کی دوڑ میں رشتے ، صبر کو فراموش نہ کریں۔
وہ پروگرام مذاق رات میں گفتگو کررہی تھیں انہوں نے کہا آگے کیا ہونا ہے میں نہیں جانتی اس وقت میں ٹھیک ہوں اور امید کرتی ہوں کہ سب اسی طرح اچھا چلتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کینسر سے آگہی کے لئے مہم چلانا چاہتی ہیں ۔ کینسر ایک ” خاموش قاتل “ ہے۔ 0varian cancer کی علامات کا پتہ ہی اس وقت چلتا ہے جب مرض کی آخری اسٹیج ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے اپنے جسم کی آواز سنیں، چھوٹی موٹی چیز سوچ کر نظر انداز مت کریں۔اس بیماری کے بعد جو چیزیں میں نے سیکھیں وہ شائد پوری زندگی بھی جان سکتی،انہوں نے کہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ہم سب کچھ چیزیں فراموش کرگئے ، رشتے ، صبر اور کردار اہم ہیں یہ بھول گئے۔ میں بھی یہ بھول گئی تھی لیکن کینسر کے جھٹکے نے مجھے سب یاد کرادیا۔ زندگی مصنوعی گہما گہمی اور چکاچوند میں ہم بھول جاتے ہیں ، ان کاکہناتھا کہ کینسر نے مجھے اصل اور نقل دوست اور دشمن کی پہچان کرادی۔
آگے نکلنے کی دوڑ میں ہم صبر اور رشتے بھول گئے”؛ مہلک مرض کو شکست دینے کے بعد انجلین ملک کا پیغام

