نیویارک : امریکا کے معروف سیاسی مبصر اور کامیڈین جان اسٹیورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں اور ان کے رویے کو ملک و قوم کے لیے ایک ایسا خطرہ قرار دیا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اپنے پوڈ کاسٹ ’دی ویکلی شو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اسٹیورٹ نے کہا کہ ٹرمپ کی اپنے ہی فیصلوں کے بھیانک نتائج سے ’مکمل لاتعلقی‘ انہیں سب سے زیادہ خوفزدہ کر رہی ہے۔
ٹائٹینک کا ڈوبتا ہوا جہاز اور بے پرواہ کپتان
جان اسٹیورٹ نے موجودہ صورتحال کو ایک ڈوبتے ہوئے بحری جہاز سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا:
”میرے لیے اب فرق یہ ہے کہ ہمارے جہاز کا کپتان (ٹرمپ) اس بات سے بالکل لاتعلق نظر آتا ہے کہ برفانی تودے (آئس برگ) کہاں ہیں اور ٹکراؤ کب ہوگا۔ وہ صرف اپنے جہاز پر کھڑے ہو کر اپنی تصویریں کھنچوانا چاہتا ہے۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے طاقتور اقدامات کے نتیجے میں کتنا نقصان ہو رہا ہے۔“
”صدر ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہیں“: پروفیسر رچرڈسن کا دھماکہ خیز انکشاف
پوڈ کاسٹ میں شریک بوسٹن کالج کی پروفیسر اور مورخ ہیدر کاکس رچرڈسن نے اسٹیورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے ایک زیادہ سنگین نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ صرف ’عدم دلچسپی‘ کا معاملہ نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت غیر مستحکم ہو چکی ہے۔
پروفیسر رچرڈسن کے الفاظ تھے:
ذہنی صحت: ”اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔ یہ صرف لاپرواہی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر کچھ اور ہے۔“
عالمی نظم و ضبط کی تباہی: ”ٹرمپ نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے قائم اس عالمی نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے جس نے ہمیں 80 سال تک امن اور خوشحالی دی تھی۔ یہ بالکل ایک نئی اور خوفناک صورتحال ہے۔“
رچرڈسن نے مزید خبردار کیا کہ ٹرمپ جتنا زیادہ نقصان کریں گے، ان کے مزید مشتعل ہونے اور ’لش آؤٹ‘ کرنے کے امکانات اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق صدر کی جانب سے ایران جنگ اور عالمی اتحادوں سے علیحدگی جیسے اقدامات اسی ذہنی کیفیت کا شاخسانہ ہو سکتے ہیں۔
”ہمارے جہاز کا اندھا کپتان نتائج سے بے پروا ہو کر دنیا تباہ کر رہاہے“ ،“: جان اسٹیورٹ صدر ٹرمپ کے اقدامات سے شدید خوفزدہ

