واشنگٹن:”ہم نے اسے ختم کر دیا!” صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف تین ہفتوں سے جاری جنگ میں مکمل فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل سے متعلق ایک ‘بڑا انعام’ امریکا کو دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا اور واضح کیا کہ اب ایران کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر راضی ہے اور اس نے آبنائے ہرمز سے متعلق ‘بڑا انعام’ بھیجا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے تین ہفتوں سے جاری اس جنگ میں فتح کا اعلان کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران "معاہدہ” کرنے کا خواہش مند ہے اور اشارہ دیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ موجودہ ایرانی قیادت میں پہلے ہی نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ "یہ وہی ہے جو واقعی ہم نے حاصل کیا ہے، حکومت کی تبدیلی۔ آپ جانتے ہیں، یہ حکومت میں تبدیلی ہے کیونکہ یہ لیڈر ان لوگوں سے بہت مختلف ہیں جن سے ہم نے شروعات کی تھی جس سے وہ تمام مسائل پیدا ہوئے،” انہوں نے کہا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری سے متعلق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی سوشل میڈیا پوسٹ کی توثیق کی۔ امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی پوسٹ کو شیئر کیا جس میں انہوں نے جاری تنازع کے جامع حل کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔
ٹرمپ نے ہوم لینڈ سکیورٹی کے نئے سیکریٹری کے طور پر مارکوائن مولن کی تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے کہا کہ "میں پہلے سے نہیں بتانا چاہتا تھا لیکن انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔” ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت نے امریکا کو آبنائے ہرمز اور تیل کے بہاؤ سے متعلق "بڑا انعام” دیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ "وہ ایک معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کل کچھ ایسا کیا جو حقیقت میں حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے ہمیں ایک تحفہ دیا۔ اور وہ تحفہ آج پہنچا۔ یہ ایک بہت بڑا تحفہ تھا جس کی قیمت بہت زیادہ تھی۔”
"میں آپ کو یہ نہیں بتانے جا رہا ہوں کہ وہ تحفہ کیا ہے، لیکن یہ ایک بہت اہم انعام تھا جو انہوں نے ہمیں دیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "اس کا میرے لیے یہ مطلب ہے کہ ہم صحیح لوگوں کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔ نہیں، یہ جوہری ہتھیار سے متعلق نہیں تھا، یہ تیل اور گیس سے متعلق تھا۔” اسی کے ساتھ امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ ‘ایران کے خلاف جنگ جیتی جا چکی ہے۔’
ٹرمپ نے کہا کہ "میں یہ کہنا پسند نہیں کرتا مگر ہم نے یہ جیت لیا ہے۔ یہ جنگ جیتی جا چکی ہے… ایسا لگتا ہے کہ ان کی کوئی بحریہ نہیں بچی ہے اور ان کے پاس فضائیہ نہیں ہے اور ان کے پاس کچھ نہیں بچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا، جسے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ "ہم نے اسے ختم کر دیا، صرف ان کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا، اگر ہم نے حملہ نہ کیا ہوتا تو ان کے پاس دو ہفتوں کا وقت ہوتا” یعنی وہ دو ہفتوں میں جوہری بم بنا لیتے۔
وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ تاریخ میں کبھی کسی جدید فوج کو اتنی تیزی سے اور تاریخی طور پر ختم نہیں کیا گیا، پہلے دن سے شکست ہوئی۔
"تاریخ میں (جنگ میں مد مقابل) کبھی بھی اتنی جدید فوج نہیں تھی، ایران کے پاس ایک جدید فوج، ایک جدید بحریہ، ایک جدید فضائیہ، جدید فضائی دفاع، قیادت، بڑے بنکر موجود تھے۔ کسی جدید فوج کو پہلے دن سے اتنی تیزی سے اور تاریخی طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ انہیں زبردست فائر پاور سے شکست دی گئی،” پیٹ ہیگستھ نے کہا۔
‘ایران سے جنگ جیت لی گئی!’ٹرمپ کا اوول آفس سے تاریخی اعلان، ایران معاہدے کیلئے تیار، ” بڑا انعام “ بھی دیدیا، امریکی صدر

