ماسکو/تہران: عالمی سیاست میں ایک بڑا موڑ اس وقت سامنے آیا جب یہ انکشاف ہوا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ ای، تہران کے بجائے ماسکو کے ایک ہسپتال میں صدر ولادیمیر پوٹن کی ذاتی نگرانی اور روسی فوج کی حفاظت میں زیرِ علاج ہیں۔
غیرملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، 12 مارچ کو ایک روسی فوجی طیارے کے ذریعے مجتبیٰ خامنہ ای کو خفیہ طور پر تہران سے ماسکو منتقل کیا گیا۔ یہ منتقلی صدر پوٹن کی جانب سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو کی گئی ایک فون کال کے بعد عمل میں آئی۔ کریملن نے اس خبر کی تردید کرنے کے بجائے روایتی انداز میں کہا ہے کہ "ہم ایسی رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرتے”، جسے سفارتی حلقوں میں تصدیق سمجھا جا رہا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو ان حملوں میں زخمی ہوئے تھے جن میں ان کے والد جاں بحق ہوئے۔ ان کی چوٹوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
بائیں آنکھ کے گرد زخم اور چہرے پر خراشیں۔
پاؤں کا فریکچر اور بازوؤں و ہاتھوں پر گہرے زخم۔
8 مارچ کو تقرری کے بعد سے وہ منظرِ عام پر نہیں آئے، ان کا واحد رابطہ ایک تحریری حکم تھا: "آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔”
موزیک ڈاکٹرائن (Mosaic Doctrine): بغیر لیڈر کے چلنے والی جنگ
امریکہ نے ایران کے کمانڈ سٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے 16.5 ارب ڈالر اور 15,000 گائیڈڈ میزائل استعمال کیے، لیکن نتیجہ صفر نکلا۔ اس کی وجہ ایران کا ‘موزیک ڈاکٹرائن’ ہے:
خود مختار کمانڈز: ایران نے ملک کو 31 صوبائی کمانڈز میں تقسیم کر رکھا ہے جنہیں تہران سے کسی حکم کی ضرورت نہیں۔
آٹو پائلٹ نظام: آبنائے ہرمز کا کنٹرول مقامی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے جو برسوں پرانے طے شدہ ‘سیلڈ پیکٹس’ (خفیہ احکامات) کے تحت کام کر رہے ہیں۔
عالمی اثرات: اس خودکار نظام کی وجہ سے عالمی سطح پر کھاد (Fertilizer) کی سپلائی لائن معطل ہے، جس سے اربوں انسانوں کی غذائی تحفظ خطرے میں ہے۔
پوٹن کا ماسٹر اسٹروک
روسی صدر نے زخمی ایرانی لیڈر کو پناہ دے کر واشنگٹن کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایران میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا راستہ اب ماسکو سے ہو کر گزرتا ہے۔ امریکا نے لیڈر کو تو زخمی کر دیا، لیکن وہ اس عسکری نظریے (Doctrine) کو ختم نہ کر سکا جو اب کسی لیڈر کی موجودگی کا محتاج نہیں۔
ماسکو کا ہسپتال، پوٹن کا پہرہ اور تہران کے غائب رہبر اعلیٰ: کیا امریکا کی اربوں ڈالر کی ‘کمانڈ ڈسٹرکشن’ خاک میں مل گئی؟

