نیویارک:ورلڈ فوڈ پروگرام نے منگل کو ایک تجزیے میں کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ جون تک جاری رہی تو مزید کروڑوں افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں نے اہم انسانی امدادی راستوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث دنیا کے بدترین بحرانوں میں زندگی بچانے والی امدادی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ خوراک، تیل اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کے باعث مزید چار کروڑ 50 لاکھ افراد شدید بھوک کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر متاثرہ افراد کی تعداد موجودہ ریکارڈ 31 کروڑ 90 لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ’یہ صورت حال عالمی بھوک کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جائے گی اور یہ ایک نہایت خوفناک امکان ہے۔‘
’اس جنگ سے پہلے ہی ہم ایک ایسے شدید بحران کا سامنا کر رہے تھے جہاں بھوک نہ صرف تعداد کے لحاظ سے بلکہ شدت کے اعتبار سے بھی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔‘
کارل سکاو کے مطابق 28 فروری سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد شپنگ کے اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور بعض ترسیلات کو متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اضافی اخراجات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ورلڈ فوڈ پروگرام پہلے ہی بڑے پیمانے پر بجٹ کٹوتیوں کا سامنا کر رہا ہے، کیونکہ عطیہ دہندگان اپنی توجہ دفاعی اخراجات کی جانب زیادہ مرکوز کر رہے ہیں۔
اسرائیل امریکا کی ایران سے جنگ: ساڑھے چارکروڑ لوگ بھوک کا شکار ہونگے، ورلڈ فوڈ پروگرام

