ایک میڈیا رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر کے بااثر افراد اور ارب پتی سرمایہ داروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی فون نمبر کی بولی لگنے لگی۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی نمبر بعض مڈل مینوں اور بااثر افراد کے درمیان ایک ایسی شے بن چکا ہے جس کی غیر رسمی سودے بازی کی جا رہی ہے تاکہ امریکی صدر تک براہ راست رسائی حاصل کی جا سکے۔
میگزین "دی اٹلانٹک” میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا فون نمبر صحافیوں، حکام اور کاروباری شخصیات کے درمیان غیر رسمی تبادلے اور فروخت کا مرکز بن گیا ہے۔ اس تبادلے کا مقصد صدر سے براہ راست رابطے کا موقع حاصل کرنا ہے۔
صحافیوں اور تاجروں کے درمیان نمبر کی گردش
رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹرمپ کا ذاتی نمبر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے درمیان بلیک مارکیٹ میں سودے بازی اور فروخت کا موضوع بن چکا ہے۔ بعض صورتوں میں عالمی رہنماؤں یا بااثر شخصیات کے فون نمبروں کا تبادلہ امریکی صدر کا نمبر حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔ ان سودوں کو رپورٹ میں کھلاڑیوں کے کارڈز کے تبادلے سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن ان سودوں کی سیاسی قدر بہت زیادہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ نمبر ان امیر حلقوں کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا جو براہ راست صدر تک رسائی یا اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
صحافیوں کی کالوں کا سیلاب
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ کو روزانہ صحافیوں کی اتنی بڑی تعداد میں کالز موصول ہوتی ہیں کہ صرف دو گھنٹوں میں فون پر تقریباً 10 کالز آ سکتی ہیں۔ ایک اہلکار نے کہا کہ یہ صحافیوں کی طرف سے پے در پے آنے والی کالیں ہوتی ہیں۔ یہ سب کچھ بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس کے حکام کو بعض اوقات کال کرنے والے صحافیوں کی شناخت کی تصدیق کے لیے انٹرنیٹ پر ان کے نام تلاش کرنے پڑتے ہیں۔
پہلے نمبر خفیہ تھا
ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر ان کا ذاتی فون نمبر صرف دوستوں کے ایک محدود حلقے اور چند صحافیوں کو معلوم تھا۔ لیکن ان کی نئی مدت کے تقریباً 14 ماہ گزرنے کے بعد یہ نمبر صحافیوں، تاجروں اور یہاں تک کہ کرپٹو کرنسی کے شعبے کے بعض سرمایہ کاروں کے درمیان بھی عام ہو چکا ہے۔

اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ٹرمپ دو آئی فون استعمال کرتے تھے جن میں سے ایک سوشل میڈیا پر پوسٹس کے لیے مخصوص تھا جبکہ دوسرا صرف کالز کے لیے تھا۔ یہ دونوں فون ’’ وائٹ ہاؤس کمیونیکیشن ایجنسی ‘‘ اور وائٹ ہاؤس کی آئی ٹی ٹیموں کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے جو صدارت کے مواصلاتی نظام کی نگرانی کرتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا ردِعمل
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صدر میڈیا کے لیے انتہائی شفافیت اور کشادگی رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ تاریخ کے سب سے زیادہ شفاف اور دستیاب صدر ہیں اور میڈیا ان سے رابطے کرنے سے نہیں تھکتا۔ اس کے باوجود مبصرین کا خیال ہے کہ کسی ملک کے سربراہ کے فون نمبر کی اس طرح گردش امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدے کے ساتھ براہ راست رابطوں کے انتظام کے حوالے سے سکیورٹی اور تنظیمی سوالات پیدا کر سکتی ہے۔

