واشنگٹن :امریکا کی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا گیا تھا کہ ایران پر حملہ خلیجی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے جبکہ پیر کو انہوں نے ایران کے ردعمل کو حیران کن قرار دیا تھا۔
رپورٹر: آپ نے کہا کہ ایران نے قطر، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، عمان، کویت اور دیگر ممالک کو نشانہ بنایا۔ آپ نے کہا کہ کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی اور ایران کے ان ممالک پر حملے نے ہمیں حیران کر دیا۔
کیا کسی نے آپ کو پہلے نہیں بتایا تھا کہ ایران کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے اور یہ اتنا شدید ہو سکتا ہے؟
ٹرمپ: نہیں، کسی نے نہیں بتایا۔ کسی نے نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔ سب سے بڑے ماہرین بھی یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ ایران اس طرح کا ردعمل دے گا۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں انٹیلی جنس رپورٹس سے واقفیت رکھنے والے ایک سرکاری اہلکار اور دو سورسز کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ایک سورس نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جنگ سے قبل کی انٹیلی جنس اسسمنٹ میں نہیں بتایا گیا تھا کہ ایران ایسا ضرور کرے گا تاہم اس کے ممکنہ ردعمل میں یہ نکتہ بھی موجود تھا۔‘صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ انتظامیہ کے کچھ دیگر دعوؤں کے بعد سامنے آیا ہے جن کو امریکی انٹیلی جنس کی حمایت حاصل نہیں تھی جیسا کہ ایران جلد امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل حاصل کر لے گا۔ اس کو جوہری بم بنانے کے لیے دو سے چار ہفتے درکار ہوں گے اور پھر اس کو استعمال کیا جائے گا۔
یہ الزامات اور خطے میں ایران کی جانب سے امریکا اور اس کی فوج کو ممکنہ فوری خطرہ ان مختلف وجوہات میں سے ایک ہے جو صدر ٹرمپ اور ان کے معاونین نے جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے پیش کی ہیں۔دیگر دو سورسز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کو آپریشن سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تہران ممکنہ طور پر اقتصادی طور پر بہت اہمیت رکھنے والی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کرے گا۔‘
پچھلے دو ہفتوں کے دوران ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں میں ڈرونز اور میزائلز کے ذریعے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں امریکا کے فوجی اڈوں کے علاوہ امارات کے اندر ایک فرانسیسی اڈہ بھی شامل ہے جبکہ ان کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر، ہوٹلز، ہوائی اڈوں اور توانائی کے ذرائع کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والے تقریباً تمام ہی جہازوں کو روک دیا ہے اس راستے کے ذریعے 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے اور بندش کے بعد سے عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ڈیموکریٹک ارکان نے جنگ کے حوالے سے حکومتی بریفنگز کے بعد پچھلے ہفتے کہا تھا کہ اس میں انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس سے لگتا ہو کہ امریکا و اسرائیل یہ جنگ شروع کرنے کی ضرورت ہو۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا جبکہ نیشنل انٹیلی جنس آفس کی جانب سے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو بریفنگ دی گئی تھی کہ حملے کی صورت میں خطے کے حالات بڑے تصادم کی طرف جا سکتے ہیں جن میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف انتقامی کارروائیاں بھی شامل ہوں گی، خصوصاً اس صورت میں اگر ان ممالک نے امریکی حملوں کی کی حمایت کی۔

