واشنگٹن:صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے جمعے کے دن ایران کے اہم تیل کے مرکز خارگ جزیرے پر فوجی اہداف پر حملہ کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو روکتا رہا تو وہ جزیرے کی تیل کی تنصیبات پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے جزیرے پر موجود ہر فوجی ہدف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے تاہم انہوں نے تیل کی تنصیبات کو ابھی نقصان نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ جزیرہ ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات کا مرکزی ٹرمینل ہے اور آبنائے ہرمز سے تقریباً تین سو میل (483 کلومیٹر) شمال مغرب میں واقع ہے۔
🚨🇺🇸🇮🇷 After Trump hit military targets on Iran’s Kharg Island, the place where 90% of its oil exports leave the country, he also threatened the oil terminals themselves if Iran keeps messing with the Strait of Hormuz.
Iran’s response? If those oil facilities get hit, U.S-linked… https://t.co/wTRq1AbXCu pic.twitter.com/A9hRSTKyxN
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 14, 2026
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزاد اور محفوظ آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو وہ فوراً اپنا یہ فیصلہ بدل دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس امریکی حملوں کے خلاف دفاع کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فوج اور اس حکومت کے ساتھ شامل دیگر افراد کے لیے بہتر ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور اپنے ملک کا جو کچھ باقی بچا ہے اسے بچانے کی کوشش کریں، کیونکہ ان کے بقول اب زیادہ کچھ باقی نہیں رہا۔
یہ قدم ایسے وقت میں اُٹھایا گیا ہے جب تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اُتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کتنی دیر تک چل سکتی ہے، اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکی بحریہ کب آبنائے ہرمز میں تیل کے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنا شروع کرے گی تو انہوں نے کہا کہ یہ کام جلد شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کے جہازوں پر حملے دراصل اس کی آخری کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا آئندہ ایک ہفتے تک ایران پر بہت سخت حملے جاری رکھے گا۔


