تحریر:سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاور ڈویژن کی جانب سے 25 کلو واٹ تک کے گھریلو سولر سسٹم کے لیے نیپرا (NEPRA) سے لائسنس لینے کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک خوش آئند قدم نظر آتا ہے۔ وزیرِ توانائی اویس لغاری کی جانب سے نیپرا کو بھیجی گئی یہ ہدایت اس بات کا اعتراف ہے کہ حالیہ ریگولیٹری تبدیلیاں نہ صرف غیر ضروری تھیں بلکہ عام آدمی کے لیے "سولرائزیشن” کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہی تھیں۔ تاہم، اس فیصلے کی تہوں میں چھپی حکمتِ عملی اور مستقبل کے خدشات پر ایک تنقیدی نظر ڈالنا ضروری ہے۔
سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟ پچھلے چند ہفتوں میں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا، جہاں صارفین کا موقف تھا کہ ایک طرف حکومت مہنگی بجلی فراہم کر رہی ہے اور دوسری طرف شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کے لیے 1000 روپے فی کلو واٹ فیس اور پیچیدہ لائسنسنگ کے جال بنے جا رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ حکومت عوامی غم و غصے اور سیاسی دباؤ کے پیشِ نظر اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہے، جسے محض "عوام دوستی” کہنا مبالغہ ہوگا۔
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طرف تو لائسنسنگ ختم کر کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف "نیٹ میٹرنگ” کو "نیٹ بلنگ” میں تبدیل کرنے کی تلوار اب بھی صارفین کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ اگر حکومت لائسنس کی شرط تو ختم کر دے لیکن سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت (Export Rate) کو کم کر دے، تو یہ صارف کے ساتھ ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے چھین لینے کے مترادف ہوگا۔
تکنیکی طور پر، 2015 کے قوانین کی طرف واپسی ایک مثبت قدم ہے۔ ڈسکوز (DISCOs) کو یہ اختیار واپس ملنے سے عمل میں تیزی آئے گی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تقسیم کار ادارے (DISCOs) اس بوجھ کو سنبھالنے کی صلاحیت اور شفافیت رکھتے ہیں؟ ماضی میں انہی اداروں میں کرپشن اور تاخیری حربوں کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
حاصلِ کلام یہ کہ لائسنس فیس اور نیپرا کے چکروں سے نجات ایک اچھا آغاز ہے، مگر پائیدار پالیسی کے بغیر یہ محض ایک وقتی مرہم ہے۔ اگر حکومت واقعی شمسی توانائی کو فروغ دینا چاہتی ہے، تو اسے کم از کم دس سال کے لیے ایک مستقل پالیسی وضع کرنی چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کرنے والے شہری خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔ صرف لائسنس ختم کرنا کافی نہیں، بلکہ سولر صارفین کو گرڈ کا دشمن سمجھنے کے بجائے توانائی کے بحران کا حل سمجھنے کی ضرورت ہے۔


