کراچی/ موگادیشو: صومالیہ کے ساحل کے قریب سمندری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پاکستانی ملاحوں کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ 21 اپریل کو خلیجِ عدن میں ہائی جیک ہونے والے بحری جہاز "اونر 25” (Owner 25) کے 11 پاکستانی عملے کے ارکان اب تک یرغمال ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے کسی ٹھوس پیش رفت کی کمی پر ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پاکستان کی صفِ اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے انسٹاگرام پر اس واقعے کی ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس سنگین واقعے کو میڈیا پر رپورٹ کیوں نہیں کیا جا رہا اور ان کی واپسی کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟۔
معروف ریپر طلحہ انجم نے حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اغوا کاروں کے قبضے میں موجود ایک ملاح ان کے لیے بھائیوں جیسا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ حکام جاگیں اور پاکستانی شہریوں کو بحفاظت گھر واپس لائیں۔
اداکارہ سبینہ فاروق نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ ایسی بحرانی صورتحال میں لوگ انصاف کے لیے کس کے پاس جائیں؟۔
اغوا ہونے والے عملے میں انڈونیشیائی کپتان کے علاوہ 11 پاکستانی ملاح شامل ہیں جنہیں تاوان کے لیے یرغمال بنایا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزارتِ خارجہ صومالی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔پاکستان نیوی، وزارتِ بحری امور اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ملاحوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے پیر کے روز یرغمالیوں کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔گورنر کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں سے رابطہ بحال ہے اور تمام سطحوں پر بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔
متاثرہ خاندانوں اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوے صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ قزاقوں کی جانب سے تاوان کا مطالبہ اور ملاحوں پر تشدد کے خدشات نے اہلخانہ کی نیندیں اڑا دی ہیں، مگر تاحال حکومت کی جانب سے کسی ’کمانڈو آپریشن‘ یا حتمی مذاکراتی کامیابی کی خبر سامنے نہیں آئی۔

