تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
دنیا ایک بار پھر شدید بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ اب پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کو ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے نازک لمحات میں الجزیرہ نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے: جب دنیا مشکل ترین دور سے گزر رہی ہو تو پاکستان کیا کرے؟میری رائے میں یہ سوال محض سفارتی بحث نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور مستقبل کا سنگ بنیاد ہے۔حالیہ دنوں میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے اور علاقائی ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔ اسلام آباد کی شٹل ڈپلومیسی اور مختلف فریقوں سے جاری مشاورت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس بحران میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جوہری طاقت ہونے اور اسٹریٹجک مقام کی وجہ سے پاکستان کی آواز کا وزن ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ثالثی کا کردار تبھی مؤثر اور وزنی ہوتا ہے جب ثالث خود مضبوط ہو۔ آج پاکستان معاشی طور پر کمزور، سیاسی طور پر تقسیم شدہ اور عوامی سطح پر شدید بحرانوں کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں کا بوجھ اور سیاسی عدم استحکام — یہ سب وہ زخم ہیں جو ہمارے قومی جسم کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ جب گھر میں خود آگ لگی ہو تو پڑوسی کے گھر بچانے کی مہم کتنی موثر ہو سکتی ہے؟تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو ممالک معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم ہوتے ہیں، وہی عالمی سطح پر حقیقی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو اب "ثالث” بننے سے پہلے "مضبوط کھلاڑی” بننا ہوگا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس نازک مرحلے پر پاکستان کو سخت حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنانا چاہیے۔ ایران کے ساتھ ہمارے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط ناقابل انکار ہیں، جبکہ امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ معاشی اور دفاعی تعلقات بھی ہماری ضرورت ہیں۔ دونوں طرف کے دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے قومی مفاد کو ہر چیز سے مقدم رکھنا چاہیے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے جوہری پروگرام اور قومی سلامتی کو کسی بھی قیمت پر محفوظ رکھیں، معاشی خودمختاری کی طرف سنجیدہ اقدامات کریں، خاص طور پر CPEC کو مکمل رفتار سے آگے بڑھائیں، سیاسی جماعتوں، اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں اور عوام کے بنیادی مسائل جیسے مہنگائی، بجلی، گیس اور روزگار کو ترجیح دیں۔عالمی بحران آتے جاتے رہتے ہیں۔ آج ایران-امریکہ تنازع ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ پاکستان کو ہر بحران میں فائر بریگیڈ بننے کی بجائے ایک خودمختار، معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم ملک بننا چاہیے۔ جب ہم خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے تو ہماری ثالثی کی آواز بھی دنیا پر وزنی ہوگی۔وقت آ گیا ہے کہ ہم رومانویت چھوڑ کر حقیقت پسندی اپنائیں۔ مشکل وقت میں پاکستان کا سب سے بڑا امتحان اس کا اپنا گھر سنوارنے کا ہے۔ خارجہ پالیسی قومی طاقت کی عکاسی ہوتی ہے، نہ کہ اس کی جگہ لے سکتی ہے۔اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔اسد مرزا

